Sunan Abi Dawood Hadith 2512 (سنن أبي داود)

[2512]إسنادہ صحیح

أخرجہ الترمذي (2972 وسندہ صحیح) عبد اللہ بن وھب صرح بالسماع عند ابن جریر (2/118، 119)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ،حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ،عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ وَابْنِ لَہِيعَةَ،عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ،عَنْ أَسْلَمَ أَبِي عِمْرَانَ،قَالَ: غَزَوْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ نُرِيدُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ،وَعَلَی الْجَمَاعَةِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ،وَالرُّومُ مُلْصِقُو ظُہُورِہِمْ بِحَائِطِ الْمَدِينَةِ،فَحَمَلَ رَجُلٌ عَلَی الْعَدُوِّ،فَقَالَ النَّاسُ: مَہْ مَہْ! لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ،يُلْقِي بِيَدَيْہِ إِلَی التَّہْلُكَةِ! فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ: إِنَّمَا نَزَلَتْ ہَذِہِ الْآيَةُ فِينَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ،لَمَّا نَصَرَ اللہُ نَبِيَّہُ،وَأَظْہَرَ الْإِسْلَامَ،قُلْنَا: ہَلُمَّ نُقِيمُ فِي أَمْوَالِنَا وَنُصْلِحُہَا! فَأَنْزَلَ اللہُ تَعَالَی: وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللہِ وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَی التَّہْلُكَةِ[البقرة: 195]،فَالْإِلْقَاءُ بِالْأَيْدِي إِلَی التَّہْلُكَةِ أَنْ نُقِيمَ فِي أَمْوَالِنَا،وَنُصْلِحَہَا،وَنَدَعَ الْجِہَادَ. قَالَ أَبُو عِمْرَانَ: فَلَمْ يَزَلْ أَبُو أَيُّوبَ يُجَاہِدُ فِي سَبِيلِ اللہِ،حَتَّی دُفِنَ بِالْقُسْطَنْطِينِيَّةِ.

جناب اسلم‘ابو عمران بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ مدینہ منورہ سے جہاد کے لیے روانہ ہوئے،ہم قسطنطنیہ (استنبول) جانا چاہتے تھے اور جناب عبدالرحمٰن بن خالد بن ولید ہمارے امیر جماعت تھے۔رومی لوگ اپنی پشت فصیل شہر کی طرف کیے ہمارے مدمقابل تھے۔مسلمانوں میں سے ایک شخص نے دشمن پر ہلہ بول دیا تو لوگوں نے کہا: رکو،ٹھہرو! ((لا إلہ إلا اللہ)) یہ شخص اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالتا ہے تو سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ آیت ہم انصاریوں ہی کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔جب اللہ ذوالجلال نے اپنے نبی کریم ﷺ کی نصرت فرمائی اور اسلام کو غالب کر دیا تو ہم نے کہا: چلو اب ذرا اپنے اموال و جائیداد میں رک جائیں اور ان کو درست کر لیں،تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ’’اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔‘‘ ہلاکت میں ڈالنا یہ تھا کہ ہم اپنے مالوں میں رک جائیں،ان کی اصلاح میں مشغول ہو جائیں اور جہاد چھوڑ دیں۔ابو عمران نے کہا: چنانچہ ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے رہے،حتیٰ کہ قسطنطنیہ (استنبول) ہی میں دفن ہوئے۔