Sunan Abi Dawood Hadith 2513 (سنن أبي داود)

[2513]إسنادہ حسن

خالد بن زید حسن الحدیث علی الراجح مشکوۃ المصابیح (3872)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ،حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ الْمُبَارَكِ،حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ،حَدَّثَنِي أَبُو سَلَّامٍ،عَنْ خَالِدِ بْنِ زَيْدٍ،عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ،قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ: إِنَّ اللہَ عَزَّ وَجَلَّ يُدْخِلُ بِالسَّہْمِ الْوَاحِدِ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ الْجَنَّةَ: صَانِعَہُ يَحْتَسِبُ فِي صَنْعَتِہِ،الْخَيْرَ وَالرَّامِيَ بِہِ،وَمُنْبِلَہُ،وَارْمُوا،وَارْكَبُوا،وَأَنْ تَرْمُوا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ تَرْكَبُوا،لَيْسَ مِنَ اللہْوِ،إِلَّا ثَلَاثٌ: تَأْدِيبُ الرَّجُلِ فَرَسَہُ،وَمُلَاعَبَتُہُ أَہْلَہُ،وَرَمْيُہُ بِقَوْسِہِ وَنَبْلِہِ،وَمَنْ تَرَكَ الرَّمْيَ بَعْدَ مَا عَلِمَہُ رَغْبَةً عَنْہُ،فَإِنَّہَا نِعْمَةٌ تَرَكَہَا-أَوْ قَالَ: كَفَرَہَا-.

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا،آپ ﷺ فرماتے تھے ’’اللہ عزوجل ایک تیر کی وجہ سے تین آدمیوں کو جنت میں داخل کرتا ہے۔ایک اس کا بنانے والا،جو اپنی اس صنعت میں اجر و ثواب کا امیدوار ہو۔دوسرا،تیر مارنے والا (جہاد میں) اور تیسرا وہ جو اسے تیر پکڑانے والا ہو (جو اس کا معاون ہو) تیر اندازی اور گھوڑ سواری سیکھو،تاہم مجھے گھوڑ سواری کی نسبت تیر اندازی (نشانہ بازی) زیادہ پسند ہے۔(شریعت میں) کھیل تین ہی ہیں: ایک یہ کہ انسان اپنے گھوڑے کو سدھائے۔دوسرا،یہ کہ انسان اپنی بیوی سے کھیلے۔تیسرا،یہ کہ انسان اپنے تیر کمان سے تیر پھینکنے کی مشق کرتا رہے۔جو شخص تیر اندازی سیکھنے کے بعد اس سے بیزار ہو کر اسے چھوڑ دے تو اس نے بلاشبہ ایک نعمت کو چھوڑ دیا۔‘‘ یا یوں فرمایا ’’اس نے اس نعمت کی ناشکری کی۔‘‘