Sunan Abi Dawood Hadith 2515 (سنن أبي داود)

[2515]صحیح

أخرجہ النسائي (4200) روایۃ بقیۃ عن بحیر صحیحۃ مشکوۃ المصابیح (3846)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْحَضْرَمِيُّ،حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ،حَدَّثَنِي بَحِيرٌ،عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ،عَنْ أَبِي بَحْرِيَّةَ،عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ،عَنْ رَسُولِ اللہِ ﷺ،أَنَّہُ قَالَ: الْغَزْوُ غَزْوَانِ, فَأَمَّا مَنِ ابْتَغَی وَجْہَ اللہِ،وَأَطَاعَ الْإِمَامَ،وَأَنْفَقَ الْكَرِيمَةَ وَيَاسَرَ الشَّرِيكَ،وَاجْتَنَبَ الْفَسَادَ،فَإِنَّ نَوْمَہُ،وَنُبْہَہُ أَجْرٌ كُلُّہُ, وَأَمَّا مَنْ غَزَا فَخْرًا،وَرِيَاءً،وَسُمْعَةً،وَعَصَی الْإِمَامَ،وَأَفْسَدَ فِي الْأَرْضِ،فَإِنَّہُ لَمْ يَرْجِعْ بِالْكَفَافِ.

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’جہاد دو قسم کا ہے: جس نے اللہ کی رضا چاہی،امام کی اطاعت کی،عمدہ مال خرچ کیا،اپنے شریک کار سے نرمی کا برتاؤ کیا اور فساد سے بچتا رہا،تو بلاشبہ ایسے مجاہد کا سونا اور جاگنا سبھی اجر و ثواب کا کام ہے لیکن جس نے فخر،دکھلاوے اور شہرت کی نیت رکھی،امام کی نافرمانی کی اور زمین میں فساد کیا تو بلاشبہ ایسا آدمی (ثواب تو کیا) برابری کے ساتھ بھی نہیں پلٹا (گناہ سے بچ آنا بھی مشکل ہے)۔‘‘