Sunan Abi Dawood Hadith 2530 (سنن أبي داود)

[2530]إسنادہ حسن

دراج عند أبی الھیثم حسن الحدیث (أضواء المصابیح: 222 بتحقیقي) وانظر الحدیث السابق (2529)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ،حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ وَہْبٍ،أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ دَرَّاجًا أَبَا السَّمْحِ حَدَّثَہُ،عَنْ أَبِي الْہَيْثَمِ،عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ،أَنَّ رَجُلًا ہَاجَرَ إِلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ مِنَ الْيَمَنِ،فَقَالَ: ہَلْ لَكَ أَحَدٌ بِالْيَمَنِ؟،قَالَ: أَبَوَايَ،قَالَ: أَذِنَا لَكَ؟ قَالَ: لَا،قَالَ: ارْجِعْ إِلَيْہِمَا فَاسْتَأْذِنْہُمَا, فَإِنْ أَذِنَا لَكَ فَجَاہِدْ،وَإِلَّا فَبِرَّہُمَا.

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک شخص یمن سے ہجرت کر کے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچا۔آپ ﷺ نے اس سے پوچھا۔’’کیا یمن میں تیرا کوئی عزیز بھی ہے؟‘‘ اس نے کہا: میرے ماں باپ ہیں۔آپ ﷺ نے پوچھا ’’کیا انہوں نے تجھے اجازت دی ہے؟‘‘ اس نے کہا: نہیں۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’ان کے پاس واپس جا اور ان سے اجازت طلب کر۔اگر وہ اجازت دے دیں تو جہاد کر ورنہ ان کی خدمت کر۔‘‘