Sunan Abi Dawood Hadith 2532 (سنن أبي داود)
[2532] إسنادہ ضعیف
یزید بن أبي نشبۃ مجہول (تقریب: 7785)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ،حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ،حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ،عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي نُشْبَةَ،عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ،قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ثَلَاثٌ مِنْ أَصْلِ الْإِيمَانِ: الْكَفُّ عَمَّنْ قَالَ: لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ،وَلَا نُكَفِّرُہُ بِذَنْبٍ،وَلَا نُخْرِجُہُ مِنَ الْإِسْلَامِ بِعَمَلٍ،وَالْجِہَادُ مَاضٍ مُنْذُ بَعَثَنِي اللہُ إِلَی أَنْ يُقَاتِلَ آخِرُ أُمَّتِي الدَّجَّالَ،لَا يُبْطِلُہُ جَوْرُ جَائِرٍ،وَلَا عَدْلُ عَادِلٍ،وَالْإِيمَانُ بِالْأَقْدَارِ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’تین باتیں ایمان کی اصل ہیں۔جس شخص نے ((لا إلہ إلا اللہ)) کا اقرار کیا اس کے درپے نہ ہو،اسے کسی گناہ کے بنا پر کافر نہ کہو اور نہ کسی عمل کی وجہ سے ایمان سے نکالو۔اور جب سے اللہ نے مجھے مبعوث فرمایا ہے جہاد جاری ہے اور جاری رہے گا یہاں تک کہ اس امت کا آخری حصہ دجال سے قتال کرے گا،اس کو کسی ظالم کا ظلم یا عادل کا عدل باطل نہیں کر سکتا اور تقدیروں پر ایمان رکھنا۔