Sunan Abi Dawood Hadith 2535 (سنن أبي داود)
[2535]إسنادہ حسن
مشکوۃ المصابیح (5449)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ،حَدَّثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَی،حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ،حَدَّثَنِي ضَمْرَةُ أَنَّ ابْنَ زُغْبٍ الْإِيَادِيَّ،حَدَّثَہُ قَالَ: نَزَلَ عَلَيَّ عَبْدُ اللہِ بْنُ حَوَالَةَ الْأَزْدِيُّ،فَقَالَ لِي: بَعَثَنَا رَسُولُ اللہِ ﷺ لِنَغْنَمَ عَلَی أَقْدَامِنَا،فَرَجَعْنَا،فَلَمْ نَغْنَمْ شَيْئًا،وَعَرَفَ الْجَہْدَ فِي وُجُوہِنَا،فَقَامَ فِينَا،فَقَالَ: اللہُمَّ لَا تَكِلْہُمْ إِلَيَّ فَأَضْعُفَ عَنْہُمْ،وَلَا تَكِلْہُمْ إِلَی أَنْفُسِہِمْ فَيَعْجِزُوا عَنْہَا،وَلَا تَكِلْہُمْ إِلَی النَّاسِ فَيَسْتَأْثِرُوا عَلَيْہِمْ. ثُمَّ وَضَعَ يَدَہُ عَلَی رَأْسِي،-أَوْ قَالَ: عَلَی ہَامَتِي-،ثُمَّ قَالَ: يَا ابْنَ حَوَالَةَ! إِذَا رَأَيْتَ الْخِلَافَةَ قَدْ نَزَلَتْ أَرْضَ الْمُقَدَّسَةِ،فَقَدْ دَنَتِ الزَّلَازِلُ،وَالْبَلَابِلُ،وَالْأُمُورُ الْعِظَامُ،وَالسَّاعَةُ يَوْمَئِذٍ أَقْرَبُ مِنَ النَّاسِ مِنْ يَدِي ہَذِہِ مِنْ رَأْسِكَ. قَالَ أَبو دَاود: عَبْدُ اللہِ بْنُ حَوَالَةَ حِمْصِيٌّ.
ابن زغب ایادی نے بیان کیا کہ سیدنا عبداللہ بن حوالہ ازدی رضی اللہ عنہ میرے مہمان بنے تو انہوں نے مجھ سے بیان کیا: رسول اللہ ﷺ نے ہم کو پیدل (جہاد کے لیے) روانہ فرمایا تاکہ کوئی غنیمت حاصل کر لائیں۔پس ہم واپس آئے اور ہمیں کوئی غنیمت نہ ملی۔آپ ﷺ نے مشقت اور غمی کے آثار ہمارے چہروں پر دیکھے تو کھڑے ہوئے اور (دعا کرتے ہوئے) فرمایا ’’اے اللہ! انہیں میرے سپرد نہ کر دے کہ ان کی کفالت سے عاجز رہوں اور نہ انہیں ان کی اپنی جانوں کے سپرد کر دے کہ اپنی کفالت سے عاجز رہیں اور نہ انہیں لوگوں کے سپرد کر دینا کہ وہ اپنے آپ ہی کو ترجیح دینے لگیں۔پھر آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ مبارک میرے سر پر رکھا اور فرمایا ’’اے ابن حوالہ! جب تم دیکھو کہ خلافت ارض مقدس (شام) تک پہنچ گئی ہے تو زلزلے آنے لگیں گے ‘ مصیبتیں ٹوٹیں گی۔(علاوہ ازیں) اور بھی بڑی بڑی علامتیں ظاہر ہوں گی اور قیامت اس وقت لوگوں کے اس سے زیادہ قریب ہو گی جتنا کہ میرا ہاتھ تمہارے سر پر ہے۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن حوالہ رضی اللہ عنہ کا تعلق حمص سے ہے۔