Sunan Abi Dawood Hadith 2537 (سنن أبي داود)

[2537]حسن

مشکوۃ المصابیح (3848)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ،حَدَّثَنَا حَمَّادٌ،أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو،عَنْ أَبِي سَلَمَةَ،عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ،أَنْ عَمْرَو بْنَ أُقَيْشٍ كَانَ لَہُ رِبًا فِي الْجَاہِلِيَّةِ،فَكَرِہَ أَنْ يُسْلِمَ حَتَّی يَأْخُذَہُ،فَجَاءَ يَوْمُ أُحُدٍ،فَقَالَ: أَيْنَ بَنُو عَمِّي؟ قَالُوا: بِأُحُدٍ قَالَ: أَيْنَ فُلَانٌ؟ قَالُوا: بِأُحُدٍ،قَالَ: فَأَيْنَ فُلَانٌ؟ قَالُوا: بِأُحُدٍ،فَلَبِسَ لَأْمَتَہُ،وَرَكِبَ فَرَسَہُ،ثُمَّ تَوَجَّہَ قِبَلَہُمْ،فَلَمَّا رَآہُ الْمُسْلِمُونَ،قَالُوا: إِلَيْكَ عَنَّا يَا عَمْرُو! قَالَ: إِنِّي قَدْ آمَنْتُ،فَقَاتَلَ،حَتَّی جُرِحَ،فَحُمِلَ إِلَی أَہْلِہِ جَرِيحًا،فَجَاءَہُ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ،فَقَالَ لِأُخْتِہِ: سَلِيہِ: حَمِيَّةً لِقَوْمِكَ،أَوْ غَضَبًا لَہُمْ،أَمْ غَضَبًا لِلَّہِ؟ فَقَالَ: بَلْ غَضَبًا لِلَّہِ،وَلِرَسُولِہِ،فَمَاتَ،فَدَخَلَ الْجَنَّةَ،وَمَا صَلَّی لِلَّہِ صَلَاةً .

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عمرو بن اقیش نے لوگوں سے اسلام سے پہلے کا سود لینا تھا ‘ تو وہ اس کی وصول یابی تک اسلام سے دور رہا۔آخر احد کے دن آیا اور پوچھا کہ میرے چچا زاد کہاں ہیں لوگوں نے کہا: احد میں ہیں ‘ پھر پوچھا کہ فلاں کہاں ہے؟ انہوں نے کہا: احد میں ہے۔پھر پوچھا کہ فلاں کہا ہے؟ انہوں نے کہا: احد میں ہے۔چنانچہ اس نے اپنے ہتھیار پہنے ‘ گھوڑے پر سوار ہوا اور ان لوگوں کی جانب چلا گیا۔مسلمانوں نے جب اس کو دیکھا ‘ تو کہا: اے عمرو! ہم سے دور رہو۔اس نے کہا۔یقین کرو کہ میں ایمان لا چکا ہوں چنانچہ قتال کرنے لگا حتیٰ کہ زخمی ہو گیا۔اسے اسی حالت میں اٹھا کر اس کے اہل میں لایا گیا پس سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ اس کے پاس آئے اور اس کی بہن سے کہا اس سے پوچھو (کہ اس نے جنگ میں حصہ کیوں لیا ہے) اپنی قوم کی حمیت و حمایت میں ‘ یا ان کے لیے غصہ کی بنا پر ‘ یا اللہ کے لیے غصے کی وجہ سے؟ تو اس نے کہا: بلکہ میں اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) کے لیے غصے کی وجہ سے (اس جنگ میں شریک ہوا ہوں) چنانچہ فوت ہو گیا اور جنت میں داخل ہوا اور اس نے اللہ کے لیے ایک بھی نماز نہیں پڑھی تھی۔