Sunan Abi Dawood Hadith 2538 (سنن أبي داود)

[2538]صحیح

صحیح مسلم (1802)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ،حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ وَہْبٍ،أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ قَالَ،أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَعَبْدُ اللہِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَبو دَاود: قَالَ أَحْمَدُ كَذَا قَالَ ہُوَ يَعْنِي ابْنَ وَہْبٍ وَعَنْبَسَةُ يَعْنِي ابْنَ خَالِدٍ جَمِيعًا،عَنْ يُونُسَ قَالَ أَحْمَدُ وَالصَّوَابُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللہِ أَنَّ سَلَمَةَ بْنَ الْأَكْوَعِ،قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ قَاتَلَ أَخِي قِتَالًا شَدِيدًا،فَارْتَدَّ عَلَيْہِ سَيْفُہُ فَقَتَلَہُ،فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللہِ ﷺ فِي ذَلِكَ،وَشَكُّوا فِيہِ! رَجُلٌ مَاتَ بِسِلَاحِہِ،فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: مَاتَ جَاہِدًا مُجَاہِدًا. قَالَ ابْنُ شِہَابٍ: ثُمَّ سَأَلْتُ ابْنًا لِسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ فَحَدَّثَنِي،عَنْ أَبِيہِ بِمِثْلِ ذَلِكَ غَيْرَ أَنَّہُ،قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ كَذَبُوا،مَاتَ جَاہِدًا مُجَاہِدًا فَلَہُ أَجْرُہُ مَرَّتَيْنِ.

سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ خیبر کے موقع پر میرے بھائی (عامر بن اکوع) نے خوب قتال کیا اور (اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ) اس کی اپنی تلوار چٹ کر خود اس کو لگ گئی جس سے وہ قتل ہو گیا۔اصحاب رسول ﷺ اس کے بارے میں باتیں کرنے لگے اور اس (کی شہادت) کے سلسلے میں انہوں نے شک کا اظہار کیا کہ ایک آدمی اپنے ہی ہتھیار سے مارا گیا ہے (تو کیونکر شہید سمجھا جائے گا؟) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’یہ جہاد کرتے ہوئے فوت ہوا اور مجاہد فوت ہوا ہے۔‘‘ ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ پھر میں نے سلمہ بن اکوع کے بیٹے سے دریافت کیا تو اس نے مجھے اپنے باپ کے حوالے سے اسی کی مانند بیان کیا مگر اس کے الفاظ یہ تھے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’غلط کہتے ہیں ‘ یہ جہاد کرتے ہوئے فوت ہوا ہے ‘ مجاہد فوت ہوا ہے اور اس کے لیے دگنا اجر ہے۔‘‘