Sunan Abi Dawood Hadith 2539 (سنن أبي داود)
[2539] إسنادہ ضعیف
سلام بن أبي سلام مجہول (تقریب: 2706)
و الولید بن مسلم کان یدلس تدلیس التسویۃ و عنعن !
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ،حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ،عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سَلَّامٍ،عَنْ أَبِيہِ،عَنْ جَدِّہِ أَبِي سَلَّامٍ،عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ،قَالَ: أَغَرْنَا عَلَی حَيٍّ مِنْ جُہَيْنَةَ،فَطَلَبَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ رَجُلًا مِنْہُمْ،فَضَرَبَہُ فَأَخْطَأَہُ،وَأَصَابَ نَفْسَہُ بِالسَّيْفِ،فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: أَخُوكُمْ يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ!،فَابْتَدَرَہُ النَّاسُ فَوَجَدُوہُ قَدْ مَاتَ،فَلَفَّہُ رَسُولُ اللہِ ﷺ بِثِيَابِہِ،وَدِمَائِہِ،وَصَلَّی عَلَيْہِ وَدَفَنَہُ. فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللہِ! أَشَہِيدٌ ہُوَ؟ قَالَ: نَعَمْ،وَأَنَا لَہُ شَہِيدٌ.
جناب ابو سلام،نبی کریم ﷺ کے ایک صحابی سے روایت کرتے ہیں ‘ انہوں نے بیان کیا کہ ہم نے جہینہ کے ایک قبیلے پر حملہ کیا۔پس مسلمانوں میں سے ایک آدمی نے ان کے ایک آدمی پر وار کیا اور اسے مارنا چاہا مگر اس کا وار خطا گیا اور اس کی تلوار خود اسے ہی لگ گئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’اے مسلمانو! تمہارا بھائی! (اس کی خبر لو)۔‘‘ لوگ بھاگ کر اس کی طرف گئے تو دیکھا کہ وہ فوت ہو چکا ہے ‘ رسول اللہ ﷺ نے اس کو اسی کے کپڑوں میں خون سمیت لپیٹ دیا ‘ اس کی نماز جنازہ پڑھی اور اسے دفن کر دیا۔لوگوں نے پوچھا۔اے اللہ کے رسول! کیا وہ شہید ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’ہاں اور میں اس کے لیے گواہ ہوں۔‘‘