Sunan Abi Dawood Hadith 2542 (سنن أبي داود)

[2542] إسنادہ ضعیف

رجل أو رجال من بني سلیم لم أعرفھم،ونصر الکناني مجہول (تقریب: 7116)

ولبعض الحدیث شواہد صحیحۃ

انوار الصحیفہ ص 93

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ عَنِ الْہَيْثَمِ بْنِ حُمَيْدٍ ح،وحَدَّثَنَا خُشَيْشُ بْنُ أَصْرَمَ،حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ جَمِيعًا،عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ،عَنْ نَصْرٍ الْكِنَانِيِّ،عَنْ رَجُلٍ وَقَالَ أَبُو تَوْبَةَ،عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ،عَنْ شَيْخٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ،عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِيِّ،وَہَذَا لَفْظُہُ أَنَّہُ سَمِعَ رَسُولَ اللہِ ﷺ, يَقُولُ: لَا تَقُصُّوا نَوَاصِي الْخَيْلِ،وَلَا مَعَارِفَہَا،وَلَا أَذْنَابَہَا, فَإِنَّ أَذْنَابَہَا مَذَابُّہَا وَمَعَارِفَہَا دِفَاؤُہَا،وَنَوَاصِيَہَا مَعْقُودٌ فِيہَا الْخَيْرُ.

سیدنا عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے سنا،آپ ﷺ فرما رہے تھے ’’گھوڑوں کی پیشانیوں،گردنوں اور دموں کے بال نہ کاٹو،بلاشبہ ان کی دمیں ان کے پنکھے ہیں (کہ وہ ان سے مکھیوں وغیرہ کو دور کرتے ہیں) اور گردنوں کے بالوں سے یہ اپنی سردی دور کرتے ہیں اور پیشانیوں کے بالوں کے ساتھ خیر و برکت بندھی ہوئی ہے۔‘‘