Sunan Abi Dawood Hadith 2552 (سنن أبي داود)

[2552]صحیح

صحیح بخاری (3005) صحیح مسلم (2115)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ،عَنْ مَالِكٍ،عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ،عَنْ عَبَّادِ ابْنِ تَمِيمٍ أَنَّ أَبَا بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيَّ،أَخْبَرَہُ أَنَّہُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللہِ ﷺ فِي بَعْضِ أَسْفَارِہِ،فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللہِ ﷺ رَسُولًا،قَالَ عَبْدُ اللہِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ حَسِبْتُ أَنَّہُ قَالَ-وَالنَّاسُ فِي مَبِيتِہِمْ-: لَا يَبْقَيَنَّ فِي رَقَبَةِ بَعِيرٍ قِلَادَةٌ مِنْ وَتَرٍ،وَلَا قِلَادَةٌ إِلَّا قُطِعَتْ. قَالَ مَالِكٌ: أَرَی أَنَّ ذَلِكَ مِنْ أَجْلِ الْعَيْنِ.

سیدنا ابوبشیر انصاری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ وہ ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے۔کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک پیغامبر بھیجا،راوی حدیث عبداللہ بن ابی بکر کا کہنا ہے: میرا خیال ہے کہ شیخ نے بیان کیا: لوگ رات کی آرام گاہ میں تھے (آپ ﷺ نے کہلا بھیجا کہ) ’’کسی اونٹ کے گلے میں کوئی تانت یا کوئی قلادہ باقی نہ چھوڑا جائے مگر اسے کاٹ ڈالا جائے۔‘‘ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میرا خیال ہے ‘ بدنظری سے بچاؤ کے لیے یہ ڈالتے تھے۔