Sunan Abi Dawood Hadith 2566 (سنن أبي داود)

[2566]صحیح

صحیح مسلم (2428)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَی،أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ،عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ،عَنْ مُوَرِّقٍ يَعْنِي الْعِجْلِيَّ،حَدَّثَنِي عَبْدُ اللہِ بْنُ جَعْفَرٍ،قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ اسْتُقْبِلَ بِنَا،فَأَيُّنَا اسْتُقْبِلَ أَوَّلًا جَعَلَہُ أَمَامَہُ،فَاسْتُقْبِلَ بِي،فَحَمَلَنِي أَمَامَہُ،ثُمَّ اسْتُقْبِلَ بِحَسَنٍ أَوْ حُسَيْنٍ،فَجَعَلَہُ خَلْفَہُ،فَدَخَلْنَا الْمَدِينَةَ وَإِنَّا لَكَذَلِكَ.

سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب سفر سے تشریف لاتے تو ہمارے ساتھ آپ ﷺ کا استقبال کیا جاتا تو جس (بچے) کے ساتھ آپ ﷺ کا پہلے استقبال کیا جاتا آپ ﷺ اسے اپنے آگے بٹھا لیتے۔چنانچہ میرے ساتھ آپ ﷺ کا استقبال کیا گیا تو آپ ﷺ نے مجھے اپنے آگے بٹھا لیا پھر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ آئے حسین رضی اللہ عنہ تو آپ نے ان کو اپنے پیچھے بٹھا لیا ‘ پھر ہم مدینے میں داخل ہوئے تو اسی طرح تھے (کہ تینوں ایک سواری پر سوار تھے۔)