Sunan Abi Dawood Hadith 2599 (سنن أبي داود)

[2599]صحیح

صحیح مسلم (1342)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ،حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ،أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ،أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّ عَلِيًّا الْأَزَدِيَّ،أَخْبَرَہُ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ عَلَّمَہُ،أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ كَانَ إِذَا اسْتَوَی عَلَی بِعِيرِہِ خَارِجًا إِلَی سَفَرٍ, كَبَّرَ ثَلَاثًا،ثُمَّ قَالَ: سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا ہَذَا وَمَا كُنَّا لَہُ مُقْرِنِينَ،وَإِنَّا إِلَی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ،اللہُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِي سَفَرِنَا ہَذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَی،وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَی،اللہُمَّ ہَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا ہَذَا،اللہُمَّ اطْوِ لَنَا الْبُعْدَ،اللہُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ،وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَہْلِ،وَالْمَالِ،وَإِذَا رَجَعَ،قَالَہُنَّ،وَزَادَ فِيہِنَّ: آيِبُونَ،تَائِبُونَ،عَابِدُونَ،لِرَبِّنَا حَامِدُونَ. وَكَانَ النَّبِيُّ ﷺ وَجُيُوشُہُ إِذَا عَلَوُا الثَّنَايَا كَبَّرُوا،وَإِذَا ہَبَطُوا سَبَّحُوا،فَوُضِعَتِ الصَّلَاةُ عَلَی ذَلِكَ.

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے جناب علی الازدی کو سفر کے آداب میں یہ سکھایا کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی سفر کی غرض سے اپنے اونٹ پر بیٹھ جاتے تو تین دفعہ کہتے ((اللہ اکبر)) پھر کہتے ((سبحان الذی سخر لنا ہذا وما کنا لہ مقرنین،وإنا إلی ربنا لمنقلبون،اللہم إنی أسألک فی سفرنا ہذا البر والتقوی ومن العمل ما ترضی،اللہم ہون علینا سفرنا ہذا،اللہم اطو لنا البعد،اللہم أنت الصاحب فی السفر والخلیفۃ فی الأہل والمال)) ’’پاک ہے وہ ذات جس نے اس سواری کو ہمارے تابع کیا،ہم (ازخود) اس کو اپنا تابع نہ بنا سکتے تھے اور بلاشبہ ہم اپنے رب کی طرف ہی لوٹ جانے والے ہیں۔اے اﷲ! میں تجھ سے اپنے اس سفر میں نیکی اور تقوی کا سوال کرتا ہوں اور ایسے عمل کی توفیق چاہتا ہوں جو تیرا پسندیدہ ہو،اے اﷲ! ہمارے لیے ہمارا یہ سفر آسان فرما دے اور مسافت کو ہمارے لیے لپیٹ دے،اے اﷲ! سفر میں تو ہی رفیق اور اہل اور مال میں خلیفہ ہے۔‘‘ اور جب واپس تشریف لاتے تو یہ کلمات پڑھتے اور ان میں یہ اضافہ کرتے ((آیبون تائبون عابدون لربنا حامدون)) ’’ہم واپس آنے والے ہیں،توبہ کرنے والے ہیں،اپنے رب کی عبادت کرنے والے اور اس کی حمد کرنے والے ہیں۔‘‘ نبی کریم ﷺ اور آپ کے لشکری جب کسی گھاٹی پر چڑھتے تو ((اللہ اکبر)) اور اگر کسی پستی میں اترتے تو ((سبحان اللہ)) کہتے اور نماز بھی اسی قاعدے پر ہے (کہ اٹھتے بیٹھتے تکبیر کہی جاتی ہے)۔