Sunan Abi Dawood Hadith 2620 (سنن أبي داود)

[2620]إسنادہ صحیح

أخرجہ ابن ماجہ (2298 وسندہ صحیح) ورواہ النسائي (5411 وسندہ صحیح)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللہِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ،حَدَّثَنَا أَبِي،حَدَّثَنَا شُعْبَةُ،عَنْ أَبِي بِشْرٍ،عَنْ عَبَّادِ بْنِ شُرَحْبِيلَ،قَال:َ أَصَابَتْنِي سَنَةٌ،فَدَخَلْتُ حَائِطًا مِنْ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ،فَفَرَكْتُ سُنْبُلًا فَأَكَلْتُ،وَحَمَلْتُ فِي ثَوْبِي،فَجَاءَ صَاحِبُہُ فَضَرَبَنِي،وَأَخَذَ ثَوْبِي،فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ،فَقَالَ لَہُ: مَا عَلَّمْتَ إِذْ كَانَ جَاہِلًا،وَلَا أَطْعَمْتَ إِذْ كَانَ جَائِعًا-أَوْ قَالَ: سَاغِبًا-. وَأَمَرَہُ فَرَدَّ عَلَيَّ ثَوْبِي،وَأَعْطَانِي وَسْقًا،أَوْ نِصْفَ وَسْقٍ مِنْ طَعَامٍ.

سیدنا عباد بن شرحبیل کا بیان ہے کہ مجھے قحط (اور بھوک) نے ستایا ‘ تو میں مدینہ کے ایک باغ میں چلا گیا اور وہاں سے میں نے ایک بالی لی ‘ اسے مسلا اور کھا لیا اور کچھ اپنے کپڑے میں بھی باندھ لے چلا ‘ پس باغ کا مالک آ گیا تو اس نے مجھے مارا اور میرا کپڑا بھی چھین لیا۔میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آ گیا تو آپ ﷺ نے اس سے فرمایا ’’تو نے اسے سمجھایا نہیں جبکہ یہ نادان تھا اور نہ تو نے اس کو کھلایا جبکہ یہ بھوکا تھا۔‘‘ (لفظ ((جائعا)) بولا یا ((ساغبا)) معنی ایک ہی ہے) پھر آپ ﷺ نے اس کو حکم دیا ‘ تو اس نے میرا کپڑا واپس کر دیا اور مجھے ایک وسق یا آدھا وسق طعام بھی دیا۔