Sunan Abi Dawood Hadith 2622 (سنن أبي داود)

[2622] إسنادہ ضعیف

ترمذی (1288) ابن ماجہ (2299)

ابن أبی الحکم لم یوثقہ غیر الترمذي ’’فھو مستور‘‘ کما قال صاحب التقریب (8465)

انوار الصحیفہ ص 96

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ وَأَبُو بَكْرٍ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ وَہَذَا لَفْظُ أَبِي بَكْرٍ،عَنْ مُعْتَمِرِ بْنِ سُلَيْمَانَ،قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي حَكَمٍ الْغِفَارِيَّ يَقُولُ: حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي،عَنْ عَمِّ أَبِي رَافِعِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ،قَالَ: كُنْتُ غُلَامًا أَرْمِي نَخْلَ الْأَنْصَارِ،فَأُتِيَ بِي النَّبِيُّ ﷺ،فَقَالَ: يَا غُلَامُ لِمَ تَرْمِي النَّخْلَ؟،قَالَ آكُلُ،قَالَ: فَلَا تَرْمِ النَّخْلَ،وَكُلْ مِمَّا يَسْقُطُ فِي أَسْفَلِہَا ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَہُ،فَقَالَ: اللہُمَّ أَشْبِعْ بَطْنَہُ.

سیدنا رافع بن عمرو غفاری کا بیان ہے کہ میں لڑکپن میں انصاریوں کی کھجوروں کو (پتھر وغیرہ) مارا کرتا تھا تو مجھے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پیش کیا گیا۔آپ ﷺ نے پوچھا ’’اے لڑکے! تو کھجوروں کو کیوں مارتا ہے؟ میں نے کہا: پھل کھانے کے لیے۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’مت مارا کر ‘ جو نیچے گری پڑی ہو کھا لیا کر۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور دعا دی: ’’اے اﷲ! اس کے پیٹ کو سیر کر دے۔‘‘