Sunan Abi Dawood Hadith 2625 (سنن أبي داود)
[2625]صحیح
صحیح بخاری (7257) صحیح مسلم (1840)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ،أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ،عَنْ زُبَيْدٍ،عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ،عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ،عَنْ عَلِيٍّ رَضِي اللہُ عَنْہُ،أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ بَعَثَ جَيْشًا،وَأَمَّرَ عَلَيْہِمْ رَجُلًا،وَأَمَرَہُمْ أَنْ يَسْمَعُوا لَہُ وَيُطِيعُوا،فَأَجَّجَ نَارًا،وَأَمَرَہُمْ أَنْ يَقْتَحِمُوا فِيہَا،فَأَبَی قَوْمٌ أَنْ يَدْخُلُوہَا،وَقَالُوا: إِنَّمَا فَرَرْنَا مِنَ النَّارِ! وَأَرَادَ قَوْمٌ أَنْ يَدْخُلُوہَا فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ ﷺ،فَقَالَ: لَوْ دَخَلُوہَا أَوْ دَخَلُوا فِيہَا،لَمْ يَزَالُوا فِيہَا،وَقَالَ: لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةِ اللہِ،إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر روانہ فرمایا اور ان پر ایک شخص (عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ) کو امیر بنایا اور ان (لشکر والوں) کو حکم دیا کہ امیر کی بات سنیں اور اس کی اطاعت کریں ‘ تو اس نے آگ بھڑکائی اور انہیں حکم دیا کہ اس میں کود جائیں تو ایک قوم نے اس کی یہ بات ماننے سے انکار کر دیا اور کہنے لگے کہ ہم آگ ہی سے تو بھاگے ہیں (مسلمان ہوئے ہیں) اور کچھ دوسرے لوگوں نے آگ میں کود جانے کا ارادہ کیا۔نبی کریم ﷺ کو یہ خبر پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’اگر یہ اس میں داخل ہو جاتے تو پھر ہمیشہ اسی میں رہتے۔‘‘ اور فرمایا ’’اﷲ کی نافرمانی میں کوئی اطاعت نہیں ‘ اطاعت ہمیشہ نیکی کے کاموں میں ہے۔‘‘