Sunan Abi Dawood Hadith 2633 (سنن أبي داود)

[2633]صحیح

صحیح بخاری (2541) صحیح مسلم (1730)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ،حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاہِيمَ،أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ،قَالَ: كَتَبْتُ إِلَی نَافِعٍ أَسْأَلُہُ عَنْ دُعَاءِ الْمُشْرِكِينَ عِنْدَ الْقِتَالِ؟ فَكَتَبَ إِلَيَّ: أَنَّ ذَلِكَ كَانَ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ،وَقَدْ أَغَارَ نَبِيُّ اللہِ ﷺ عَلَی بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَہُمْ غَارُّونَ،وَأَنْعَامُہُمْ تُسْقَی عَلَی الْمَاءِ،فَقَتَلَ مُقَاتِلَتَہُمْ،وَسَبَی سَبْيَہُمْ،وَأَصَابَ يَوْمَئِذٍ جُوَيْرِيَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ. حَدَّثَنِي بِذَلِكَ عَبْدُ اللہِ وَكَانَ فِي ذَلِكَ الْجَيْشِ. قَالَ أَبو دَاود: ہَذَا حَدِيثٌ نَبِيلٌ رَوَاہُ ابْنُ عَوْنٍ،عَنْ نَافِعٍ وَلَمْ يُشْرِكْہُ فِيہِ أَحَدٌ.

ابن عون رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے جناب نافع کو لکھ بھیجا اور ان سے یہ مسئلہ دریافت کیا کہ قتال کے موقع پر مشرکین کو دعوت دینا کیا حکم رکھتا ہے؟ تو انہوں نے مجھے لکھ بھیجا: بیشک یہ حکم ابتدائے اسلام میں تھا۔(بعد ازاں) نبی کریم ﷺ نے قبیلہ بنو مصطلق پر حملہ کیا جبکہ وہ غافل تھے اور ان کے جانور پانی پی رہے تھے تو آپ نے ان کے لڑنے والوں کو قتل کیا اور باقیوں کو قید کر لیا۔اسی موقع پر جویریہ بنت حارث آپ کے ہاتھ لگی تھیں۔(بعد میں حرم نبوی میں داخل کی گئیں) نافع کہتے ہیں کہ مجھے یہ حدیث سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کی اور وہ اس لشکر میں شریک تھے۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں،یہ حدیث عمدہ ہے۔اسے ابن عون نے نافع سے بیان کیا ہے۔ابن عون کا اس میں اور کوئی شریک نہیں۔