Sunan Abi Dawood Hadith 2643 (سنن أبي داود)
[2643]صحیح
صحیح بخاری (6872) صحیح مسلم (96)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْمَعْنَی،قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْلَی بْنُ عُبَيْدٍ عَنِ الْأَعْمَشِ،عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ،حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ،قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللہِ ﷺ سَرِيَّةً إِلَی الْحُرَقَاتِ،فَنَذِرُوا بِنَا،فَہَرَبُوا،فَأَدْرَكْنَا رَجُلًا،فَلَمَّا غَشِينَاہُ،قَالَ: لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ! فَضَرَبْنَاہُ،حَتَّی قَتَلْنَاہُ،فَذَكَرْتُہُ لِلنَّبِيِّ ﷺ،فَقَالَ: مَنْ لَكَ بِلَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟!،فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللہِ! إِنَّمَا قَالَہَا مَخَافَةَ السِّلَاحِ! قَالَ: أَفَلَا شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِہِ،حَتَّی تَعْلَمَ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ قَالَہَا أَمْ لَا؟!! مَنْ لَكَ بِلَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟!. فَمَا زَالَ يَقُولُہَا،حَتَّی وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أُسْلِمْ إِلَّا يَوْمَئِذٍ!
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم لوگوں کو ایک مہم میں حرقات (قبیلے) کی طرف روانہ فرمایا،انہوں نے ہماری خبر سن لی اور نکل بھاگے،ہم نے ایک آدمی کو جا لیا جب ہم نے اس کو گھیر لیا تو اس نے ((لا إلہ إلا اللہ)) کہہ دیا۔ہم نے اس کو مارا حتیٰ کہ قتل کر دیا۔میں نے یہ واقعہ نبی کریم ﷺ کے سامنے بیان کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’قیامت کے دن ((لا إلہ إلا اللہ)) کے مقابلے میں تیرے لیے کون ہو گا؟‘‘ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس نے یہ ہتھیار کے خوف سے کہا تھا۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’بھلا تو نے اس کا دل کیوں نہ چیر لیا حتیٰ کہ تجھے معلوم ہو جاتا کہ اس نے اس وجہ سے کہا تھا یا کسی اور وجہ سے؟ قیامت کے دن تیرے لیے ((لا إلہ إلا اللہ)) کے مقابلے میں کون ہو گا؟‘‘ آپ ﷺ یہ کلمہ دہراتے رہے حتیٰ کہ میرا دل چاہا،کاش کہ میں آج ہی اسلام لایا ہوتا۔(مجھ سے یہ گناہ عظیم سرزد نہ ہوا ہوتا۔)