Sunan Abi Dawood Hadith 2644 (سنن أبي داود)

[2644]صحیح

صحیح بخاری (6869) صحیح مسلم (95)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنِ اللَّيْثِ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ،عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ،عَنْ عُبَيْدِ اللہِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ،أَنَّہُ أَخْبَرَہُ،أَنَّہُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللہِ! أَرَأَيْتَ إِنْ لَقِيتُ رَجُلًا مِنَ الْكُفَّارِ فَقَاتَلَنِي،فَضَرَبَ إِحْدَی يَدَيَّ بِالسَّيْفِ،ثُمَّ لَاذَ مِنِّي بِشَجَرَةٍ،فَقَالَ: أَسْلَمْتُ لِلَّہِ،أَفَأَقْتُلُہُ يَا رَسُولَ اللہِ بَعْدَ أَنْ قَالَہَا؟ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: لَا تَقْتُلْہُ،فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللہِ! إِنَّہُ قَطَعَ يَدِي! قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: لَا تَقْتُلْہُ, فَإِنْ قَتَلْتَہُ،فَإِنَّہُ بِمَنْزِلَتِكَ قَبْلَ أَنْ تَقْتُلَہُ،وَأَنْتَ بِمَنْزِلَتِہِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ كَلِمَتَہُ الَّتِي قَالَ.

سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اگر کسی کافر سے ٹکراؤں،وہ مجھ سے قتال کرے اور تلوار سے میرا ایک ہاتھ کاٹ ڈالے،پھر (میرے وار کرنے پر) کسی درخت کی اوٹ لے لے اور کہے: میں نے اللہ کے لیے اسلام قبول کیا۔تو اے اللہ کے رسول! کیا میں اسے قتل کروں (یا نہ) جبکہ اس نے ((لا إلہ إلا اللہ)) کہہ دیا ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’اسے قتل مت کرو۔‘‘ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس نے میرا ایک ہاتھ کاٹ ڈالا ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’اسے قتل مت کرو،اگر تو نے اس کو قتل کر دیا تو وہ تیرے مقام پر ہو گا جہاں کہ تو اس کو قتل کرنے سے پہلے تھا۔(معصوم الدم اور اس کا قتل حرام تھا۔) اور تو اس کی جگہ پر ہو گا جہاں کہ وہ یہ کلمہ کہنے سے پہلے تھا۔‘‘ (حلال الدم اور اس کا قتل کرنا حلال تھا۔)