Sunan Abi Dawood Hadith 2645 (سنن أبي داود)
[2645] ضعیف
ترمذی (1604)
أبو معاویۃ الضریر عنعن
قال معاذ علي زئي:
وقال البخاري: ’’الصحيح حديث قيس عن النبي ﷺ مرسل‘‘ (سنن الترمذي: 1605 وسندہ صحیح)
وقال الدارقطني: ’’عن إسماعيل،عن قيس مرسلا،وہو الصواب‘‘ (العلل: 13/ 464)
وقال الشیخ تنویر الحق الترمذي:
ولبعض الحدیث شواہد عند أحمد (5/ 78 ح 20737 وسندہ صحیح) ولفظہ: ’’وفارقوا المشركين‘‘ وقال عمر بن الخطاب فی القنوت: ’’ونخلع ونترك من يفجرك‘‘ (السنن الکبریٰ للبیہقي: 2/ 298 ح 3143)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا ہَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ: حَدَّثَنَا،أَبُو مُعَاوِيَةَ،عَنْ إِسْمَاعِيلَ،عَنْ قَيْسٍ،عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ،قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللہِ ﷺ سَرِيَّةً إِلَی خَثْعَمٍ،فَاعْتَصَمَ نَاسٌ مِنْہُمْ بِالسُّجُودِ،فَأَسْرَعَ فِيہِمُ الْقَتْلَ،قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ ﷺ،فَأَمَرَ لَہُمْ بِنِصْفِ الْعَقْلِ،وَقَالَ: أَنَا بَرِيءٌ مِنْ كُلِّ مُسْلِمٍ،يُقِيمُ بَيْنَ أَظْہُرِ الْمُشْرِكِينَ،قَالُوا: يَا رَسُولَ اللہِ! لِمَ؟ قَالَ: لَا تَرَاءَی نَارَاہُمَا. قَالَ أَبو دَاود: رَوَاہُ ہُشَيْمٌ وَمَعْمَرٌ وَخَالِدٌ الْوَاسِطِيُّ وَجَمَاعَةٌ،لَمْ يَذْكُرُوا جَرِيرًا.
سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قبیلہ خشعم کی طرف ایک مہم روانہ فرمائی تو ان میں سے کچھ لوگوں نے سجدہ کر کے پناہ حاصل کرنی چاہی لیکن (مجاہدین نے ان کو) جلدی جلدی قتل کر ڈالا۔نبی کریم ﷺ کو یہ خبر پہنچی تو آپ ﷺ نے ان کو آدھی دیت دینے کا حکم دیا۔اور فرمایا ’’میں ہر اس مسلمان سے بری ہوں جو مشرکین کے اندر مقیم ہو۔‘‘ انہوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’یعنی دونوں کو ایک دوسرے کی آگ دکھائی نہ دے (آبادی اس قدر دور دور ہونی چاہیئے۔) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کو ہشیم،معمر،خالد واسطی اور کئی لوگوں نے روایت کیا ہے اور انہوں نے جریر رضی اللہ عنہ کا واسطہ ذکر نہیں کیا۔