Sunan Abi Dawood Hadith 2649 (سنن أبي داود)
[2649]صحیح
صحیح بخاری (6943)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ،أَخْبَرَنَا ہُشَيْمٌ وَخَالِدٌ،عَنْ إِسْمَاعِيلَ،عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ،عَنْ خَبَّابٍ،قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللہِ ﷺ وَہُوَ مُتَوَسِّدٌ بُرْدَةً فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ،فَشَكَوْنَا إِلَيْہِ،فَقُلْنَا: أَلَا تَسْتَنْصِرُ لَنَا؟ أَلَا تَدْعُو اللہَ لَنَا؟ فَجَلَسَ مُحْمَرًّا وَجْہُہُ،فَقَالَ: قَدْ كَانَ مَنْ قَبْلَكُمْ يُؤْخَذُ الرَّجُلُ،فَيُحْفَرُ لَہُ فِي الْأَرْضِ،ثُمَّ يُؤْتَی بِالْمِنْشَارِ،فَيُجْعَلُ عَلَی رَأْسِہِ،فَيُجْعَلُ فِرْقَتَيْنِ, مَا يَصْرِفُہُ ذَلِكَ عَنْ دِينِہِ،وَيُمْشَطُ بِأَمْشَاطِ الْحَدِيدِ مَا دُونَ عَظْمِہِ مِنْ لَحْمٍ وَعَصَبٍ،مَا يَصْرِفُہُ ذَلِكَ عَنْ دِينِہِ،وَاللہِ لَيُتِمَّنَّ اللہُ ہَذَا الْأَمْرَ حَتَّی يَسِيرَ الرَّاكِبُ مَا بَيْنَ صَنْعَاءَ وَحَضْرَمُوتَ مَا يَخَافُ إِلَّا اللہَ تَعَالَی،وَالذِّئْبَ عَلَی غَنَمِہِ وَلَكِنَّكُمْ تَعْجَلُونَ.
سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے جب کہ آپ ﷺ ایک چادر کو تکیہ بنائے کعبہ کے سائے میں لیٹے ہوئے تھے۔ہم نے آپ ﷺ سے شکایت کی اور کہا: کیا آپ ہمارے لیے مدد نہیں مانگتے؟ کیا آپ ہمارے لیے اللہ سے دعا نہیں فرماتے؟ تو آپ ﷺ اٹھ بیٹھے،آپ ﷺ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور فرمایا ’’تم سے پہلے جو لوگ تھے ان میں سے کسی کو پکڑا جاتا اور اس کے لیے گڑھا کھودا جاتا،پھر آرا لایا جاتا اور اس کے سر پر رکھ کر اسے دو حصے کر دیا جاتا مگر یہ (عذاب بھی) اسے اس کے دین سے نہ پھیرتا تھا،اور (وہ کسی کے ساتھ یوں کرتے کہ) اس کی ہڈیوں تک گوشت اور پٹھوں میں لوہے کی کنگھیاں چلاتے،یہ کاروائی بھی اسے اس کے دین سے نہ پھیرتی تھی۔اللہ کی قسم! اللہ عزوجل اپنا یہ دین پورا کر کے رہے گا حتیٰ کہ ایک سوار صنعاء اور حضر موت کے درمیان سفر کرے گا،اسے اللہ کے سوا کسی کا خوف نہ ہو گا (زیادہ سے زیادہ) بکریوں کے متعلق اندیشہ ہو گا کہ بھیڑیا نہ حملہ کر دے لیکن تم جلدی کر رہے ہو۔‘‘ (یعنی صبر و تحمل سے کام لو،اللہ مدد کرے گا۔)