Sunan Abi Dawood Hadith 2650 (سنن أبي داود)

[2650]صحیح

صحیح بخاری (3007) صحیح مسلم (2494)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ،حَدَّثَنَا سُفْيَانُ،عَنْ عَمْرٍو حَدَّثَہُ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ،أَخْبَرَہُ عُبَيْدُ اللہِ بْنُ أَبِي رَافِعٍ وَكَانَ كَاتِبًا لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ،قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ بَعَثَنِي رَسُولُ اللہِ ﷺ أَنَا وَالزُّبَيْرُ وَالْمِقْدَادُ،فَقَالَ: انْطَلِقُوا حَتَّی تَأْتُوا رَوْضَةَ خَاخٍ،فَإِنَّ بِہَا ظَعِينَةً،مَعَہَا كِتَابٌ،فَخُذُوہُ مِنْہَا. فَانْطَلَقْنَا تَتَعَادَی بِنَا خَيْلُنَا،حَتَّی أَتَيْنَا الرَّوْضَةَ،فَإِذَا نَحْنُ بِالظَّعِينَةِ،فَقُلْنَا: ہَلُمِّي الْكِتَابَ! قَالَتْ: مَا عِنْدِي مِنْ كِتَابٍ،فَقُلْتُ: لَتُخْرِجِنَّ الْكِتَابَ،أَوْ لَنُلْقِيَنَّ الثِّيَابَ،فَأَخْرَجَتْہُ مِنْ عِقَاصِہَا،فَأَتَيْنَا بِہِ النَّبِيَّ ﷺ،فَإِذَا ہُوَ مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَی نَاسٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ،يُخْبِرُہُمْ بِبَعْضِ أَمْرِ رَسُولِ اللہِ ﷺ،فَقَالَ: مَا ہَذَا يَا حَاطِبُ؟،فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللہِ! لَا تَعْجَلْ عَلَيَّ،فَإِنِّي كُنْتُ امْرَأً مُلْصَقًا فِي قُرَيْشٍ،وَلَمْ أَكُنْ مِنْ أَنْفُسِہَا،وَإِنَّ قُرَيْشًا لَہُمْ بِہَا قَرَابَاتٌ،يَحْمُونَ بِہَا أَہْلِيہِمْ بِمَكَّةَ،فَأَحْبَبْتُ إِذْ فَاتَنِي ذَلِكَ أَنْ أَتَّخِذَ فِيہِمْ يَدًا،يَحْمُونَ قَرَابَتِي بِہَا،وَاللہِ يَا رَسُولَ اللہِ مَا كَانَ بِي مِنْ كُفْرٍ وَلَا ارْتِدَادٍ! فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: صَدَقَكُمْ،فَقَالَ عُمَرُ: دَعْنِي أَضْرِبُ عُنُقَ ہَذَا الْمُنَافِقِ! فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّم:َ قَدْ شَہِدَ بَدْرًا،وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللہَ اطَّلَعَ عَلَی أَہْلِ بَدْرٍ فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ،فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ!.

عبیداللہ بن ابی رافع رحمہ اللہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے کاتب تھے،انہوں نے کہا: میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سنا،وہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے،زبیر اور مقداد کو روانہ کیا اور فرمایا ’’جاؤ حتیٰ کہ جب تم روضہ خاخ کے مقام پر پہنچو گے تو تمہیں ایک اونٹنی سوار عورت ملے گی اس کے پاس ایک خط ہے،وہ اس سے لے آؤ۔‘‘ چنانچہ ہم روانہ ہوئے ہمارے گھوڑے ہمیں بڑی تیزی سے لیے جا رہے تھے حتیٰ کہ ہم مقام روضہ پر پہنچ گئے،تو ہم نے وہاں ایک عورت پائی جو اپنی اونٹنی پر سوار تھی۔ہم نے اس سے کہا: لاؤ خط دے دو۔اس نے کہا: میرے پاس کوئی خط نہیں ہے۔میں نے کہا: یا تو،تو خط نکالے گی یا ہم تیرے کپڑے اتار دیں گے۔چنانچہ اس نے اپنی چٹیا میں سے خط نکال دیا،تو اسے لے کر ہم نبی کریم ﷺ کے پاس آ گئے۔وہ حاطب بن ابی بلتعہ کی طرف سے مشرکین کو لکھا گیا تھا،اس میں ان کو رسول اللہ ﷺ کے بعض معاملات کے متعلق خبر دی گئی تھی۔آپ ﷺ نے پوچھا ’’حاطب! یہ کیا ہے؟‘‘ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھ پر جلدی (میں فیصلہ) نہ کیجئیے،دراصل میں اہل قریش میں نو آباد تھا،خاص قبیلہ قریش سے میرا تعلق نہیں تھا جبکہ (مہاجرین) قریش کے وہاں مکہ میں دیگر تعلق دار موجود ہیں جو ان کے اہل و عیال کی حفاظت کرتے ہیں لہٰذا میں نے چاہا کہ مجھے ان کے ساتھ تعلق داری کا کوئی واسطہ حاصل نہیں ہے،تو میں ان پر ایک احسان کر دوں جس کی بنا پر وہ میرے قرابت داروں کا خیال رکھیں۔اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! مجھ میں کوئی کفر نہیں ہے اور نہ کوئی ارتداد ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’سچ کہا ہے۔‘‘ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے چھوڑیے میں اس منافق کی گردن اڑا دوں۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’یہ بدر میں شریک ہو چکا ہے اور تمہیں کیا خبر،شاید اللہ تعالیٰ نے اہل بدر پر نظر فرمائی ہو اور کہا ہے کہ جو چاہے کرو،تحقیق میں نے تمہیں بخش دیا ہے۔‘‘