Sunan Abi Dawood Hadith 2652 (سنن أبي داود)

[2652] إسنادہ ضعیف

أبو إسحاق عنعن

انوار الصحیفہ ص 96

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ،حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُحَبَّبٍ أَبُو ہَمَّامٍ الدَّلَّالُ،حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ،عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ،عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ،عَنْ فُرَاتِ بْنِ حَيَّانَ،أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ أَمَرَ بِقَتْلِہِ،وَكَانَ عَيْنًا لِأَبِي سُفْيَانَ،وَكَانَ حَلِيفًا لِرَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ،فَمَرَّ بِحَلَقَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ،فَقَالَ: إِنِّي مُسْلِمٌ،فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: يَا رَسُولَ اللہِ! إِنَّہُ يَقُولُ: إِنَّی مُسْلِمٌ،فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: إِنَّ مِنْكُمْ رِجَالًا نَكِلُہُمْ إِلَی إِيمَانِہِمْ،مِنْہُمْ فُرَاتُ بْنُ حَيَّانَ.

سیدنا فرات بن حیان رضی اللہ عنہ (اپنے متعلق) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا جبکہ وہ ابوسفیان کی طرف سے جاسوس بن کر آیا تھا۔یہ ایک انصاری کا حلیف بھی تھا۔وہ انصاریوں کی ایک جماعت کے پاس سے گزرا اور کہا: بیشک میں مسلمان ہوں۔تو ایک انصاری نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوں۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’تم میں کچھ لوگ ایسے ہیں کہ ہم ان کو ان کے ایمان کے سپرد کر دیتے ہیں،ان میں سے فرات بن حیان بھی ہے۔‘‘