Sunan Abi Dawood Hadith 2660 (سنن أبي داود)
[2660]صحیح
صحیح بخاری (3045)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ،حَدَّثَنَا إِبْرَاہِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ،أَخْبَرَنَا ابْنُ شِہَابٍ،أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ جَارِيَةَ الثَّقَفِيُّ حَلِيفُ بَنِي زُہْرَةَ،عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ،عَنِ النَّبِيِّ ﷺ،قَال:َ بَعَثَ رَسُولُ اللہِ ﷺ عَشَرَةً عَيْنًا،وَأَمَّرَ عَلَيْہِمْ عَاصِمَ بْنَ ثَابِتٍ،فَنَفَرُوا لَہُمْ ہُذَيْلٌ بِقَرِيبٍ مِنْ مِائَةِ رَجُلٍ رَامٍ،فَلَمَّا أَحَسَّ بِہِمْ عَاصِمٌ لَجَئُوا إِلَی قَرْدَدٍ،فَقَالُوا لَہُمُ: انْزِلُوا فَأَعْطُوا بِأَيْدِيكُمْ،وَلَكُمُ الْعَہْدُ وَالْمِيثَاقُ أَنْ لَا نَقْتُلَ مِنْكُمْ أَحَدًا فَقَالَ عَاصِمٌ: أَمَّا أَنَا, فَلَا أَنْزِلُ فِي ذِمَّةِ كَافِرٍ،فَرَمَوْہُمْ بِالنَّبْلِ،فَقَتَلُوا عَاصِمًا فِي سَبْعَةِ نَفَرٍ،وَنَزَلَ إِلَيْہِمْ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ عَلَی الْعَہْدِ وَالْمِيثَاقِ،مِنْہُمْ خُبَيْبٌ،وَزَيْدُ بْنُ الدَّثِنَةِ،وَرَجُلٌ آخَرُ،فَلَمَّا اسْتَمْكَنُوا مِنْہُمْ, أَطْلَقُوا أَوْتَارَ قِسِيِّہِمْ،فَرَبَطُوہُمْ بِہَا،فَقَالَ الرَّجُلُ الثَّالِثُ: ہَذَا أَوَّلُ الْغَدْرِ،وَاللہِ لَا أَصْحَبُكُمْ،إِنَّ لِي بِہَؤُلَاءِ لَأُسْوَةً،فَجَرُّوہُ،فَأَبَی أَنْ يَصْحَبَہُمْ, فَقَتَلُوہُ،فَلَبِثَ خُبَيْبٌ أَسِيرًا،حَتَّی أَجْمَعُوا قَتْلَہُ،فَاسْتَعَارَ مُوسَی يَسْتَحِدُّ بِہَا،فَلَمَّا خَرَجُوا بِہِ لِيَقْتُلُوہُ،قَالَ لَہُمْ خُبَيْبٌ: دَعُونِي أَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ،ثُمَّ قَالَ: وَاللہِ لَوْلَا أَنْ تَحْسَبُوا مَا بِي جَزَعًا, لَزِدْتُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے دس افراد کو بطور جاسوس روانہ کیا اور ان پر سیدنا عاصم بن ثابت کو امیر مقرر کیا،تو قبیلہ ہذیل کے تقریباً ایک سو تیر انداز ان کے مقابلے میں آ گئے۔جب عاصم رضی اللہ عنہ نے ان کو دیکھا تو یہ سب ایک ٹیلے کی اوٹ میں ہو گئے (مگر ان کافروں نے ان کو گھیر لیا) اور بولے: ہتھیار پھینک دو اور اپنے آپ کو ہمارے حوالے کر دو،ہم تم سے یہ عہد کرتے ہیں اور پختہ وعدہ ہے کہ تم میں سے کسی کو قتل نہ کریں گے۔عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا: میں کسی کافر کے عہد میں نہیں آتا۔تو انہوں نے ان مجاہدین کو تیر مارے اور عاصم سمیت سات افراد کو قتل کر دیا،اور تین افراد نے ان کافروں کا عہد و میثاق قبول کر لیا۔یہ تھے خبیب اور زید بن وثنہ اور ایک اور آدمی (اس کا نام عبداللہ بن طارق بلوی آیا ہے۔) جب ان کافروں نے ان کو پکڑ لیا تو انہوں نے ان کی کمانوں کی تانتیں کھولیں اور ان سے ان کو باندھ دیا۔تیسرا آدمی کہنے لگا: یہ پہلا دھوکہ ہے،اللہ کی قسم! میں تمہارے ساتھ نہیں چلوں گا۔میرے لیے میرے (قتل ہو جانے والے) ساتھی ہی نمونہ ہیں۔انہوں نے اس کو گھسیٹا مگر اس نے ان کے ساتھ چلنے سے انکار کر دیا تو انہوں نے اس کو قتل کر دیا۔(اور خبیب اور زید کو انہوں نے مکہ لے جا کر بیچ دیا۔سیدنا خبیب کو حارث بن عامر کے بیٹوں نے خرید لیا) چنانچہ خبیب رضی اللہ عنہ (ان کے) قیدی ہو گئے حتیٰ کہ انہوں نے ان کو قتل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔(متعینہ تاریخ سے پہلے) خبیب نے ان سے استرا طلب کیا تاکہ زیر ناف بال صاف کر سکیں،جب وہ ان کو قتل کرنے کے لیے چلے،تو خبیب رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے مہلت دو میں دو رکعت ادا کر لوں۔پھر کہا: قسم اللہ کی! اگر مجھے یہ شبہ نہ ہوتا کہ تم لوگ سمجھو گے کہ ڈر کے مارے نماز پڑھتا ہو تو میں اور زیادہ پڑھتا۔