Sunan Abi Dawood Hadith 2662 (سنن أبي داود)
[2662]صحیح
صحیح بخاری (3039)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ،حَدَّثَنَا زُہَيْرٌ،حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ،قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ،يُحَدِّثُ قَالَ: جَعَلَ رَسُولُ اللہِ ﷺ عَلَی الرُّمَاةِ يَوْمَ أُحُدٍ-وَكَانُوا خَمْسِينَ رَجُلًا-عَبْدَ اللہِ بْنَ جُبَيْرٍ،وَقَالَ: إِنْ رَأَيْتُمُونَا تَخْطِفُنَا الطَّيْرُ, فَلَا تَبْرَحُوا مِنْ مَكَانِكُمْ ہَذَا حَتَّی أُرْسِلَ لَكُمْ وَإِنْ رَأَيْتُمُونَا ہَزَمْنَا الْقَوْمَ وَأَوْطَأْنَاہُمْ, فَلَا تَبْرَحُوا حَتَّی أُرْسِلَ إِلَيْكُمْ. قَالَ: فَہَزَمَہُمُ اللہُ،قَالَ: فَأَنَا وَاللہِ رَأَيْتُ النِّسَاءَ يُسْنِدْنَ عَلَی الْجَبَلِ،فَقَالَ أَصْحَابُ عَبْدِ اللہِ بْنِ جُبَيْرٍ: الْغَنِيمَةَ أَيْ قَوْمِ! الْغَنِيمَةَ! ظَہَرَ أَصْحَابُكُمْ فَمَا تَنْتَظِرُونَ؟! فَقَالَ عَبْدُ اللہِ بْنُ جُبَيْرٍ: أَنَسِيتُمْ مَا قَالَ لَكُمْ رَسُولُ اللہِ ﷺ؟! فَقَالُوا: وَاللہِ لَنَأْتِيَنَّ النَّاسَ فَلَنُصِيبَنَّ مِنَ الْغَنِيمَةِ؟ فَأَتَوْہُمْ،فَصُرِفَتْ وُجُوہُہُمْ،وَأَقْبَلُوا مُنْہَزِمِينَ.
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے احد والے دن تیر اندازوں کے جتھے پر سیدنا عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر کیا،ان لوگوں کی تعداد پچاس تھی اور ان سے فرمایا تھا ’’اگر تم دیکھو کہ پرندے ہمیں اچک رہے ہیں،تب بھی تم یہ جگہ نہ چھوڑنا حتیٰ کہ میں تمہیں کوئی پیغام بھیجوں۔اور اگر تم دیکھو کہ ہم نے کافروں کو شکست دے دی ہے اور ہم ان کو روند رہے ہیں،تب بھی تم یہیں رہنا حتیٰ کہ میں تمہیں بلواؤں۔‘‘ بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کافروں کو شکست سے دوچار کر دیا۔قسم اللہ کی! میں نے دیکھا ان کی عورتیں (پناہ کے لیے) پہاڑ پر چڑھ رہی تھیں۔تو عبداللہ بن جبیر کے (تیر انداز) ساتھیوں نے کہا: غنیمت! اے قوم غنیمت! تمہارے ساتھی غالب آ گئے ہیں،تم کیا دیکھ رہے ہو؟ عبداللہ بن جبیر نے کہا: کیا تم بھول گئے ہو کہ رسول اللہ ﷺ نے تم سے کیا فرمایا تھا۔انہوں نے کہا: قسم اللہ کی! ہم تو لوگوں کے ساتھ مل کر غنیمت جمع کریں گے۔چنانچہ وہ چلے آئے،تو ان کے منہ پھیر دیے گئے اور شکست سے دوچار ہوئے۔