Sunan Abi Dawood Hadith 2687 (سنن أبي داود)

[2687] إسنادہ ضعیف

بکیر بن عبد اللہ بن الأشج رواہ عن أبیہ عن عبید بن تعلی بہ انظر مسند أحمد (422/5ح23987)

و أبوہ: مجہول الحال،لم یوثقہ غیر ابن حبان فیما أعلم فالسند معلل

انوار الصحیفہ ص 98

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ،قَالَ:،حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ وَہْبٍ قَالَ،أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ،عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ابْنِ الْأَشَجِّ عَنِ ابْنِ تِعْلَی،قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ فَأُتِيَ بِأَرْبِعَةِ أَعْلَاجٍ مِنَ الْعَدُوِّ،فَأَمَرَ بِہِمْ،فَقُتِلُوا صَبْرًا. قَالَ أَبو دَاود: قَالَ لَنَا غَيْرُ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ فِي ہَذَا الْحَدِيثِ قَالَ: بِالنَّبْلِ صَبْرًا،فَبَلَغَ ذَلِكَ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ،فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ،يَنْہَی عَنْ قَتْلِ الصَّبْرِ،فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِہِ لَوْ كَانَتْ،دَجَاجَةٌ مَا صَبَرْتُہَا،فَبَلَغَ ذَلِكَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ،فَأَعْتَقَ أَرْبَعَ رِقَابٍ.

ابن تعلی (عبید ابن تعلی) کی روایت ہے کہ ہم نے عبدالرحمٰن بن خالد بن ولید کی معیت میں جہاد کیا۔ان کے سامنے دشمن کافر کے چار افراد لائے گئے جو عجمی تھے اور بڑے طاقتور تھے۔پس انہوں نے حکم دیا اور انہیں بندھے بندھے قتل کر دیا گیا۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں ابن وہب کے شاگرد سعید کے علاوہ دوسروں نے ہمیں یوں بیان کیا کہ ’’ان کو تیر سے مارا گیا جبکہ وہ بندھے ہوئے تھے۔‘‘ سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کو یہ خبر پہنچی تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا ہے آپ ﷺ اس طرح قتل کرنے سے منع فرماتے تھے۔(ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کہا) قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر ایک مرغی بھی ہو تو اس کو باندھ کر نہ ماروں۔جناب عبدالرحمٰن بن خالد کو یہ خبر پہنچی تو انہوں نے چار گردنیں آزاد کیں۔