Sunan Abi Dawood Hadith 2688 (سنن أبي داود)
[2688]صحیح
صحیح مسلم (1808)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ،قَالَ:،حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ،أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ،عَنْ أَنَسٍ،أَنَّ ثَمَانِينَ رَجُلًا مِنْ أَہْلِ مَكَّةَ،ہَبَطُوا عَلَی النَّبِيِّ ﷺ وَأَصْحَابِہِ مِنْ جِبَالِ التَّنْعِيمِ عِنْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ, لِيَقْتُلُوہُمْ،فَأَخَذَہُمْ رَسُولُ اللہِ ﷺ سِلْمًا،فَأَعْتَقَہُمْ رَسُولُ اللہِ ﷺ،فَأَنْزَلَ اللہُ عَزَّ وَجَلَّ: وَہُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَہُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْہُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ...[الفتح: 24] إِلَی آخِرِ الْآيَةِ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ (سفر حدیبیہ میں) اہل مکہ کے اسی (80) آدمی فجر کی نماز کے وقت تنعیم کے پہاڑوں سے اترے کہ نبی کریم ﷺ اور آپ کے اصحاب کو قتل کر ڈالیں مگر رسول اللہ ﷺ نے ان کو پکڑ لیا اور انہوں نے بھی اپنے آپ کو ان کے حوالے کر دیا۔رسول اللہ ﷺ نے بعد میں ان کو رہا کر دیا تو اﷲ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ((وہو الذی کف أیدیہم عنکم وأیدیکم عنہم ببطن مکۃ)) ’’(اﷲ) وہ ذات ہے جس نے وادی مکہ میں ان کے ہاتھوں کو تم سے روکے رکھا اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے روکے رکھا۔‘‘