Sunan Abi Dawood Hadith 2694 (سنن أبي داود)

[2694]حسن

أخرجہ النسائي (3718 وسندہ حسن) وھو فی السیرۃ لابن ھشام (203بتحقیقي) محمد بن إسحاق صرح بالسماع عند ابن الجارود (1080) وغیرہ مشکوۃ المصابیح (4025)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ،قَالَ:،حَدَّثَنَا حَمَّادٌ،عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ،عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ،عَنْ أَبِيہِ،عَنْ جَدِّہِ فِي ہَذِہِ الْقِصَّةِ،قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: رُدُّوا عَلَيْہِمْ نِسَاءَہُمْ وَأَبْنَاءَہُمْ،فَمَنْ مَسَكَ بِشَيْءٍ مِنْ ہَذَا الْفَيْءِ, فَإِنَّ لَہُ بِہِ عَلَيْنَا سِتَّ فَرَائِضَ مِنْ أَوَّلِ شَيْءٍ يُفِيئُہُ اللہُ عَلَيْنَا ثُمَّ دَنَا-يَعْنِي: النَّبِيَّ ﷺ-مِنْ بَعِيرٍ،فَأَخَذَ وَبَرَةً مِنْ سَنَامِہِ،ثُمَّ قَالَ: يَا أَيُّہَا النَّاسُ! إِنَّہُ لَيْسَ لِي مِنْ ہَذَا الْفَيْءِ شَيْءٌ،وَلَا ہَذَا-وَرَفَعَ أُصْبُعَيْہِ-إِلَّا الْخُمُسَ،وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ عَلَيْكُمْ،فَأَدُّوا الْخِيَاطَ،وَالْمِخْيَطَ. فَقَامَ رَجُلٌ فِي يَدِہِ كُبَّةٌ مِنْ شَعْرٍ،فَقَالَ: أَخَذْتُ ہَذِہِ لِأُصْلِحَ بِہَا بَرْذَعَةً لِي فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: أَمَّا مَا كَانَ لِي وَلِبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ, فَہُوَ لَكَ،فَقَالَ: أَمَّا إِذْ بَلَغَتْ مَا أَرَی, فَلَا أَرَبَ لِي فِيہَا،وَنَبَذَہَا.

سیدنا عمرو بن شعیب اپنے والد سے ‘ (شعیب) اپنے دادا سے اس واقعہ کے سلسلے میں بیان کرتے ہیں کہ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’ان لوگوں کی عورتیں اور بچے انہیں لوٹا دو اور جو کوئی بلا عوض واپس نہ کرنا چاہے تو ہمارا اس سے وعدہ ہے کہ پہلی پہلی غنیمت جو اﷲ تعالیٰ ہمیں عنایت فرمائے گا اس میں سے چھ اونٹ اسے دیے جائیں گے۔‘‘ پھر آپ اپنے اونٹ کے قریب ہوئے اور اس کے کوہان سے کچھ بال لیے اور فرمایا ’’لوگو! اس غنیمت میں سے میرے لیے خمس (پانچویں حصے) کے سوا کچھ نہیں ہے،اس قدر (بال) بھی نہیں۔‘‘ اور آپ نے اشارہ کرتے ہوئے اپنی انگلی بلند فرمائی۔اور فرمایا ’’یہ خمس بھی تم لوگوں ہی میں تقسیم ہو گا لہٰذا سوئی اور دھاگے تک واپس کر دو۔‘‘ چنانچہ ایک آدمی کھڑا ہوا ‘ اس کے ہاتھ میں بالوں کا ایک گچھا سا تھا وہ بولا: میں نے یہ بال لیے ہیں تاکہ پالان کے نیچے کی گدی درست کر لوں۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’جو میرا ذاتی حصہ ہے یا بنی عبدالمطلب کا ‘ وہ تم لے سکتے ہو (دوسروں کا نہیں)۔‘‘ اس نے کہا: اگر اس کا اتنا گناہ ہے جو میں دیکھ رہا ہوں تو مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں اور اس نے گچھا پھینک دیا۔