Sunan Abi Dawood Hadith 2697 (سنن أبي داود)

[2697]صحیح

صحیح مسلم (1755)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللہِ،قَالَ:،حَدَّثَنَا ہَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ،قَالَ:،حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ،قَالَ: حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ،قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ أَبِي بَكْرٍ،وَأَمَّرَہُ عَلَيْنَا رَسُولُ اللہِ ﷺ،فَغَزَوْنَا فَزَارَةَ،فَشَنَنَّا الْغَارَةَ،ثُمَّ نَظَرْتُ إِلَی عُنُقٍ مِنَ النَّاسِ،فِيہِ الذُّرِّيَّةُ وَالنِّسَاءُ،0 فَرَمَيْتُ بِسَہْمٍ،فَوَقَعَ بَيْنَہُمْ وَبَيْنَ الْجَبَلِ،فَقَامُوا،فَجِئْتُ بِہِمْ إِلَی أَبِي بَكْرٍ،فِيہِمُ امْرَأَةٌ مِنْ فَزَارَةَ وَعَلَيْہَا قِشْعٌ مَنْ أَدَمٍ،مَعَہَا بِنْتٌ لَہَا مِنْ أَحْسَنِ الْعَرَبِ،فَنَفَّلَنِي أَبُو بَكْرٍ ابْنَتَہَا،فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيَنِي رَسُولُ اللہِ ﷺ،فَقَالَ لِي: يَا سَلَمَةُ! ہَبْ لِيَ الْمَرْأَةَ! فَقُلْتُ: وَاللہِ لَقَدْ أَعْجَبَتْنِي وَمَا كَشَفْتُ لَہَا ثَوْبًا؟ فَسَكَتَ،حَتَّی إِذَا كَانَ مِنَ الْغَدِ لَقِيَنِي رَسُولُ اللہِ ﷺ فِي السُّوقِ،فَقَالَ: يَا سَلَمَةُ ہَبْ لِيَ الْمَرْأَةَ لِلَّہِ أَبُوكَ،فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللہِ! وَاللہِ مَا كَشَفْتُ لَہَا ثَوْبًا, وَہِيَ لَكَ،فَبَعَثَ بِہَا إِلَی أَہْلِ مَكَّةَ،وَفِي أَيْدِيہِمْ أَسْرَی،فَفَادَاہُمْ بِتِلْكَ الْمَرْأَةِ

سیدنا ایاس بن سلمہ اپنے والد (سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں،کہتے ہیں کہ ہم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ (جہاد کے لیے) روانہ ہوئے۔رسول اللہ ﷺ نے ان کو ہمارا امیر بنایا تھا ‘ ہم نے بنو فزارہ کے ساتھ جہاد کیا اور ہر طرف سے ان پر چڑھائی کی۔میں نے لوگوں کی ایک جماعت دیکھی،ان میں بچے تھے اور عورتیں بھی۔میں نے ایک تیر مارا جو ان کے اور پہاڑ کے درمیان جا گرا تو وہ اٹھ کھڑے ہوئے ‘ میں انہیں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس لے آیا۔ان میں فزارہ کی ایک عورت تھی جس نے ایک پرانی کھال اوڑھی ہوئی تھی اس کے ساتھ اس کی بیٹی بھی تھی جو عرب کی حسین ترین لڑکیوں میں سے تھی۔سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے وہ لڑکی بطور نفل غنیمت مجھے دے دی۔میں مدینے آیا اور رسول اللہ ﷺ مجھے ملے اور فرمایا ’’اے سلمہ! وہ عورت مجھے ہبہ کر دے۔‘‘ میں نے عرض کیا: قسم اﷲ کی! وہ تو مجھے بہت پسند آئی ہے اور میں نے اس کا کپڑا بھی نہیں اٹھایا۔پس آپ خاموش ہو رہے۔جب اگلا دن ہوا ‘ رسول اللہ ﷺ مجھے بازار میں ملے اور فرمایا ’’اے سلمہ! عورت مجھے ہبہ کر دے ‘ تیرے باپ کی بھلائی ہو۔‘‘ میں نے عرض کیا: اے اﷲ کے رسول! میں نے اس کا کپڑا تک نہیں اٹھایا ‘ مگر وہ آپ کی ہوئی۔چنانچہ آپ ﷺ نے اسے اہل مکہ کی طرف بھیج دیا جبکہ کچھ مسلمان قیدی ان کے قبضے میں تھے ‘ تو اس عورت کو بطور فدیہ کے ان کو دے دیا۔