Sunan Abi Dawood Hadith 2698 (سنن أبي داود)
[2698] شاذ
أخطأ ابن أبي زائدۃ وھو ثقۃ و روی من طرق صحیحۃ أن العبد ردّ بعد زمن النبي ﷺ وھو الصواب،انظر الحدیث الآتي (الأصل: 2699)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ سُہَيْلٍ،حَدَّثَنَا يَحْيَی يَعْنِي ابْنَ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللہِ،عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ،أَنَّ غُلَامًا لِابْنِ عُمَرَ،أَبَقَ إِلَی الْعَدُوِّ،فَظَہَرَ عَلَيْہِ الْمُسْلِمُونَ،فَرَدَّہُ رَسُولُ اللہِ ﷺ إِلَی ابْنِ عُمَرَ،وَلَمْ يَقْسِمْ. قَالَ أَبو دَاود: وَقَالَ غَيْرُہُ رَدَّہُ عَلَيْہِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کا ایک غلام بھاگ کر دشمنوں کے پاس چلا گیا۔پھر مسلمان ان لوگوں پر غالب آ گئے تو رسول اللہ ﷺ نے وہ غلام ابن عمر رضی اللہ عنہما کو واپس کر دیا اور (بطور غنیمت) تقسیم نہیں فرمایا۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں (یحییٰ بن ابی زائدہ کے علاوہ) کسی دوسرے نے کہا کہ خالد بن ولید نے اسے واپس کیا تھا۔