Sunan Abi Dawood Hadith 2700 (سنن أبي داود)
[2700] إسنادہ ضعیف
ترمذی (3715)
محمد بن إسحاق عنعن ورواہ الترمذي (3715) من حدیث شریک القاضي بہ وھومدلس وعنعن
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَی الْحَرَّانِيُّ،حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ،عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ،عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ،عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ،عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ،عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ،قَالَ: خَرَجَ عِبْدَانٌ إِلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ-يَعْنِي: يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ قَبْلَ الصُّلْحِ-،فَكَتَبَ إِلَيْہِ مَوَالِيہُمْ،فَقَالُوا: يَا مُحَمَّدُ وَاللہِ مَا خَرَجُوا إِلَيْكَ رَغْبَةً فِي دِينِكَ, وَإِنَّمَا خَرَجُوا ہَرَبًا مِنَ الرِّقِّ! فَقَالَ نَاسٌ: صَدَقُوا يَا رَسُولَ اللہِ! رُدَّہُمْ إِلَيْہِمْ،فَغَضِبَ رَسُولُ اللہِ ﷺ،وَقَالَ: مَا أُرَاكُمْ تَنْتَہُونَ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ،حَتَّی يَبْعَثَ اللہُ عَلَيْكُمْ مَنْ يَضْرِبُ رِقَابَكُمْ عَلَی ہَذَا!،وَأَبَی أَنْ يَرُدَّہُمْ،وَقَالَ: ہُمْ عُتَقَاءُ اللہِ عَزَّ وَجَلَّ.
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حدیبیہ کے روز صلح سے پہلے کچھ غلام بھاگ کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آ گئے تو ان کے مالکوں نے آپ ﷺ کو لکھا: اے محمد! (ﷺ) قسم اﷲ کی! یہ لوگ تمہارے دین کے شوق میں تمہارے پاس نہیں آئے ہیں ‘ بلکہ غلامی سے بھاگ کر آئے ہیں۔صحابہ میں سے کچھ نے کہا: اے اﷲ کے رسول! انہوں نے سچ کہا ہے ‘ آپ انہیں ان کو واپس لوٹا دیں تو رسول اللہ ﷺ غصے ہوئے اور فرمایا ’’اے قریشیو! میں سمجھتا ہوں کہ تم لوگ اس وقت تک باز نہیں آؤ گے جب تک کہ اﷲ تم پر کسی ایسے کو نہ بھیج دے جو تمہاری اس (ہٹ دھرمی) پر تمہاری گردنیں مار دے۔‘‘ اور آپ نے ان کو واپس کرنے سے انکار کر دیا اور فرمایا ’’یہ اللہ عزوجل کے آزاد کردہ لوگ ہیں۔‘‘