Sunan Abi Dawood Hadith 2723 (سنن أبي داود)

[2723]صحیح

إسماعیل بن عیاش صرح بالسماع (کما في تغلیق التعلیق 4/135) وتابعہ عبد اللہ بن سالم

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ،قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ،عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيِّ عَنِ الزُّہْرِيِّ أَنَّ عَنْبَسَةَ ابْنَ سَعِيدٍ أَخْبَرَہُ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا ہُرَيْرَةَ،يُحَدِّثُ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ بَعَثَ أَبَانَ بْنَ سَعِيدِ ابْنِ الْعَاصِ عَلَی سَرِيَّةٍ مِنَ الْمَدِينَةِ قِبَلَ نَجْدٍ،فَقَدِمَ أَبَانُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَصْحَابُہُ عَلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ بِخَيْبَرَ بَعْدَ أَنْ فَتَحَہَا،وَإِنَّ حُزُمَ خَيْلِہِمْ لِيفٌ،فَقَالَ أَبَانُ: اقْسِمْ لَنَا يَا رَسُولَ اللہِ! فَقَالَ أَبُو ہُرَيْرَةَ: فَقُلْتُ: لَا تَقْسِمْ لَہُمْ يَا رَسُولَ اللہِ! فَقَالَ أَبَانُ: أَنْتَ بِہَا-يَا وَبْرُ-تَحَدَّرُ عَلَيْنَا مِنْ رَأْسِ ضَالٍ،فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: اجْلِسْ يَا أَبَانُ!. وَلَمْ يَقْسِمْ لَہُمْ رَسُولُ اللہِ ﷺ.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،سیدنا سعید بن عاص رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ابان بن سعید بن عاص کو مدینہ منورہ سے نجد کی جانب ایک جہادی مہم پر روانہ کیا۔پس ابان بن سعید اور اس کے ساتھی رسول اللہ ﷺ کے پاس خیبر میں پہنچے جبکہ آپ ﷺ نے خیبر کو فتح کر لیا تھا۔ابان بن سعید اور ان کے ساتھیوں کے گھوڑے تنگ (زین کسنے کے چوڑے تسمے،یا لگام) کھجور کی چھال کے تھے۔تو ابان نے کہا: اے اﷲ کے رسول! ہمیں بھی عنایت فرمائیے۔سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اﷲ کے رسول! انہیں مت دیجئیے۔ابان بولے ((أنت بہا یا وبر))! تم یہ کہہ رہے ہو اور (کہاں سے) ہمارے پاس ضال (پہاڑ) کی چوٹی سے اتر آئے ہو؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’ابان بیٹھ جاؤ۔‘‘ اور رسول اللہ ﷺ نے ان کو غنیمت میں سے کچھ نہ دیا۔