Sunan Abi Dawood Hadith 2724 (سنن أبي داود)
[2724]صحیح
صحیح بخاری (4237)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَی الْبَلْخِيُّ،قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ،قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّہْرِيُّ وَسَأَلَہُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ فَحَدَّثَنَاہُ الزُّہْرِيُّ أَنَّہُ سَمِعَ عَنْبَسَةَ بْنَ سَعِيدٍ الْقُرَشِيَّ يُحَدِّثُ،عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ،قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ وَرَسُولُ اللہِ ﷺ بِخَيْبَرَ،حِينَ افْتَتَحَہَا،فَسَأَلْتُہُ أَنْ يُسْہِمَ لِي،فَتَكَلَّمَ بَعْضُ وُلْدِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ،فَقَالَ: لَا تُسْہِمْ لَہُ يَا رَسُولَ اللہِ! قَالَ: فَقُلْتُ: ہَذَا قَاتِلُ ابْنِ قَوْقَلٍ،فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ الْعَاصِ: يَا عَجَبًا! لِوَبْرٍ قَدْ تَدَلَّی عَلَيْنَا مِنْ قَدُومِ ضَالٍ،يُعَيِّرُنِي بِقَتْلِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ أَكْرَمَہُ اللہُ تَعَالَی عَلَی يَدَيَّ،وَلَمْ يُہِنِّي عَلَی يَدَيْہِ. قَالَ أَبو دَاود: ہَؤُلَاءِ كَانُوا نَحْوَ عَشَرَةٍ،فَقُتِلَ مِنْہُمْ سِتَّةٌ،وَرَجَعَ مَنْ بَقِيَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں مدینے پہنچا جب کہ رسول اللہ ﷺ خیبر میں تھے،جس وقت کہ آپ نے اسے فتح کیا تھا۔میں نے درخواست کی کہ آپ مجھے بھی عنایت فرمائیں۔تو سعید بن عاص کے بچوں میں سے کسی نے کہا: اے اﷲ کے رسول! اسے مت دیجئیے۔میں نے کہا: یہ ابن قوقل رضی اللہ عنہ کا قاتل ہے۔تو سعید بن عاص رضی اللہ عنہ نے کہا: ((یا عجبا لوبر)) ضال (پہاڑ) کہ چوٹی سے ہمارے پاس اتر آیا ہے اور مجھے ایک مسلمان کے قتل پر عار دلاتا ہے جس کو اللہ عزوجل نے میرے ہاتھوں عزت بخشی (اسے شہادت نصیب ہوئی) اور مجھے اس کے ہاتھوں ذلیل نہیں کیا۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ لوگ تقریباً دس آدمی تھے۔ان میں سے چھ شہید ہو گئے اور باقی واپس لوٹ آئے۔