Sunan Abi Dawood Hadith 2740 (سنن أبي داود)
[2740]صحیح
صحیح مسلم (1748)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا ہَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ،عَنْ أَبِي بَكْرٍ،عَنْ عَاصِمٍ،عَنْ00 مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ،عَنْ أَبِيہِ قَالَ: جِئْتُ إِلَی النَّبِيِّ ﷺ يَوْمَ بَدْرٍ بِسَيْفٍ،فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللہِ! إِنَّ اللہَ قَدْ شَفَی صَدْرِي الْيَوْمَ مِنَ الْعَدُوِّ،فَہَبْ لِي ہَذَا السَّيْفَ! قَالَ: إِنَّ ہَذَا السَّيْفَ لَيْسَ لِي وَلَا لَكَ،فَذَہَبْتُ وَأَنَا أَقُولُ: يُعْطَاہُ الْيَوْمَ مَنْ لَمْ يُبْلِ بَلَائِي! فَبَيْنَمَا أَنَا إِذْ جَاءَنِي الرَّسُولُ،فَقَالَ: أَجِبْ،فَظَنَنْتُ أَنَّہُ نَزَلَ فِيَّ شَيْءٌ بِكَلَامِي،فَجِئْتُ،فَقَالَ لِيَ النَّبِيُّ ﷺ: إِنَّكَ سَأَلْتَنِي ہَذَا السَّيْفَ،وَلَيْسَ ہُوَ لِي،وَلَا لَكَ،وَإِنَّ اللہَ قَدْ جَعَلَہُ لِي فَہُوَ لَكَ. ثُمَّ قَرَأَ: يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّہِ وَالرَّسُولِ...[الأنفال: 1]،إِلَی آخِرِ الْآيَةِ. قَالَ أَبو دَاود: قِرَاءَةُ ابْنِ مَسْعُودٍ: يَسْأَلُونَكَ النَّفْلَ.
سیدنا مصعب بن سعد اپنے والد (سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ بدر کے روز میں ایک تلوار لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے آج دشمن کے مقابلے میں میرا سینہ ٹھنڈا کر دیا ہے،تو آپ یہ تلوار مجھے عنایت فرما دیجئیے۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’یہ تلوار نہ میری ہے اور نہ تیری۔‘‘ چنانچہ میں چلا اور میں کہہ رہا تھا: یہ آج اس آدمی کو دے دی جائے گی جس نے میرے جیسی بہادری نہیں دکھائی ہو گی۔میں اسی کیفیت میں تھا کہ ایک بلانے والا میرے پاس آیا اور کہا کہ (رسول اللہ ﷺ کے ہاں) پہنچو۔میں نے گمان کیا کہ میں نے جو بول بولے ہیں ان کی بنا پر میرے بارے میں کوئی وحی نازل ہوئی ہو گی۔چنانچہ میں آیا تو نبی کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا ’’تو نے مجھ سے یہ تلوار مانگی تھی،حالانکہ یہ نہ میری ہے نہ تیری اور (اب) اللہ عزوجل نے اسے مجھے دے دیا ہے،سو (اب) یہ تیری ہے۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے سورۃ الانفال کی یہ آیت تلاوت فرمائی۔) ((یسألونک عن الأنفال قل الأنفال للہ والرسول)) آخر آیت تک۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرآت میں ہے۔((یسألونک النفل)) (بغیر عن کے اور مفرد صیغہ کے ساتھ)۔