Sunan Abi Dawood Hadith 2773 (سنن أبي داود)
[2773]صحیح
صحیح بخاری (4676) صحیح مسلم (2769)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ،أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ،أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ قَالَ،أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ عَبْدَ اللہِ بْنَ كَعْبٍ،قَالَ: سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ،قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ, بَدَأَ بِالْمَسْجِدِ،فَرَكَعَ فِيہِ رَكْعَتَيْنِ،ثُمَّ جَلَسَ لِلنَّاسِ... وَقَصَّ ابْنُ السَّرْحِ الْحَدِيثَ. قَالَ: وَنَہَی رَسُولُ اللہِ ﷺ الْمُسْلِمِينَ عَنْ كَلَامِنَا-أَيُّہَا الثَّلَاثَةُ-،حَتَّی إِذَا طَالَ عَلَيَّ, تَسَوَّرْتُ جِدَارَ حَائِطِ أَبِي قَتَادَةَ-وَہُوَ ابْنُ عَمِّي،فَسَلَّمْتُ عَلَيْہِ،فَوَاللہِ مَا رَدَّ عَلَيَّ السَّلَامَ،ثُمَّ صَلَّيْتُ الصُّبْحَ صَبَاحَ خَمْسِينَ لَيْلَةً عَلَی ظَہْرِ بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِنَا،فَسَمِعْتُ صَارِخًا: يَا كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ! أَبْشِرْ،فَلَمَّا جَاءَنِي الَّذِي سَمِعْتُ صَوْتَہُ يُبَشِّرُنِي, نَزَعْتُ لَہُ ثَوْبَيَّ،فَكَسَوْتُہُمَا إِيَّاہُ،فَانْطَلَقْتُ حَتَّی إِذَا دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ،فَإِذَا رَسُولُ اللہِ ﷺ جَالِسٌ،فَقَامَ إِلَيَّ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللہِ يُہَرْوِلُ،حَتَّی صَافَحَنِي وَہَنَّأَنِي
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب بھی کسی سفر سے واپس لوٹتے تو سب سے پہلے مسجد میں تشریف لے جاتے ‘ وہاں دو رکعتیں پڑھتے اور پھر لوگوں سے ملنے کے لیے بیٹھ جاتے۔(امام ابوداؤد کے شیخ) ابن السرح نے پوری حدیث بیان کی اور کہا: رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو منع فرما دیا تھا کہ ہم تینوں سے کوئی بات چیت کرے۔حتیٰ کہ جب یہ کیفیت بہت طویل ہو گئی تو میں اپنے چچا زاد ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کی دیوار پر چڑھا اور میں نے اس کو سلام کہا۔اللہ کی قسم! اس نے مجھے جواب نہیں دیا۔پھر جب پچاس راتیں پوری ہو گئیں اور اس صبح فجر کی نماز میں نے اپنے ایک مکان کی چھت پر پڑھی ‘ تو میں نے ایک بلند آواز سے پکارنے والے کی آواز سنی جو کہہ رہا تھا: اے کعب بن مالک! خوشخبری ہو۔پھر جب وہ میرے پاس پہنچا ‘ جس کی آواز میں نے سنی تھی ‘ تو میں نے اس کے لیے اپنے کپڑے اتارے اور اس کو پہنا دیے۔پھر میں چلا حتیٰ کہ جب مسجد میں داخل ہوا تو رسول اللہ ﷺ تشریف فرما تھے۔طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ دوڑتے ہوئے میری طرف لپکے ‘ حتیٰ کہ مجھ سے مصافحہ کیا اور مبارک باد پیش کی۔