Sunan Abi Dawood Hadith 2775 (سنن أبي داود)
[2775] إسنادہ ضعیف
یحیي بن الحسن بن عثمان مجہول الحال (تقریب: 7531)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ،حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ،حَدَّثَنِي مُوسَی بْنُ يَعْقُوبَ, عَنِ ابْنِ عُثْمَانَ, قَالَ أَبو دَاود: وَہُوَ يَحْيَی بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عُثْمَانَ عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ سَعْدٍ،عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ،عَنْ أَبِيہِ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللہِ ﷺ مِنْ مَكَّةَ نُرِيدُ الْمَدِينَةَ،فَلَمَّا كُنَّا قَرِيبًا مِنْ عَزْوَرَا, نَزَلَ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْہِ،فَدَعَا اللہَ سَاعَةً،ثُمَّ خَرَّ سَاجِدًا،فَمَكَثَ طَوِيلًا،ثُمَّ قَامَ فَرَفَعَ يَدَيْہِ،فَدَعَا اللہَ سَاعَةً،ثُمَّ خَرَّ سَاجِدًا فَمَكَثَ طَوِيلًا،ثُمَّ قَامَ،فَرَفَعَ يَدَيْہِ سَاعَةً،ثُمَّ خَرَّ سَاجِدًا-ذَكَرَہُ أَحْمَدُ ثَلَاثًا-،قَالَ: إِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي،وَشَفَعْتُ لِأُمَّتِي،فَأَعْطَانِي ثُلُثَ أُمَّتِي،فَخَرَرْتُ سَاجِدًا شُكْرًا لِرَبِّي،ثُمَّ رَفَعْتُ رَأْسِي،فَسَأَلْتُ رَبِّي لِأُمَّتِي،فَأَعْطَانِي ثُلُثَ أُمَّتِي،فَخَرَرْتُ سَاجِدًا لِرَبِّي شُكْرًا،ثُمَّ رَفَعْتُ رَأْسِي،فَسَأَلْتُ رَبِّي لِأُمَّتِي،فَأَعْطَانِي الثُّلُثَ الْآخِرَ،فَخَرَرْتُ سَاجِدًا لِرَبِّي. قَالَ أَبو دَاود: أَشْعَثُ بْنُ إِسْحَاقَ أَسْقَطَہُ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حِينَ،حَدَّثَنَا بِہِ فَحَدَّثَنِي بِہِ عَنْہُ مُوسَی بْنُ سَہْلٍ الرَّمْلِيُّ.
سیدنا عامر بن سعد اپنے والد (سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) سے بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی معیت میں مکہ سے روانہ ہوئے ‘ ہمارا ارادہ مدینے جانے کا تھا۔جب ہم مقام عزورا کے قریب پہنچے تو آپ ﷺ اپنی سواری سے اتر پڑے۔پھر اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور ایک گھڑی اللہ سے دعا کرتے رہے۔پھر سجدے میں گر گئے اور دیر تک سجدے میں پڑے رہے۔پھر اٹھے ‘ اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور ایک گھڑی اللہ سے دعا کرتے رہے ‘ پھر سجدے میں گر گئے اور بڑی دیر تک سجدے میں پڑے رہے ‘ پھر اٹھے اور اپنے دونوں ہاتھ بلند کئے اور ایک گھڑی تک بلند کیے رکھے ‘ پھر سجدے میں گر گئے۔احمد بن صالح نے یہ عمل تین بار کا بیان کیا،فرمایا ’’میں نے اپنے اب سے سوال کیا ہے اور اپنی امت کے لیے شفاعت کی ہے۔پس اللہ نے مجھے میری امت کا تہائی حصہ دے دیا (اسے بخش دوں گا) ‘ تو میں اپنے رب کا شکر کرتے ہوئی سجدے میں گر گیا۔پھر میں نے اپنا سر اٹھایا ‘ اپنے رب سے اپنی امت کے لیے دعا کی تو اس مجھے میری امت کا (مزید) تہائی حصہ عنایت فرما دیا تو میں اپنے رب کا شکر کرتے ہوئے سجدے میں گر گیا۔پھر میں نے سر اٹھایا ‘ اپنے رب سے اپنی امت کے لیے سوال کیا تو اس نے مجھے میری امت کا مزید تہائی حصہ بھی دے دیا تو میں اپنے رب کے لیے سجدے میں گر گیا۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میرے شیخ احمد بن صالح نے جب یہ سند بیان کی تو اس میں سے اشعث بن اسحٰق کا انہوں نے ذکر نہیں کیا۔اس کا ذکر موسیٰ بن سہل رملی نے کیا ہے۔