Sunan Abi Dawood Hadith 2778 (سنن أبي داود)

[2778]صحیح

صحیح بخاری (5247) صحیح مسلم (715 بعد ح1928)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ،حَدَّثَنَا ہُشَيْمٌ،أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ عَنِ الشَّعْبِيِّ،عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ،قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ ﷺ فِي سَفَرٍ،فَلَمَّا ذَہَبْنَا لِنَدْخُلَ قَالَ: أَمْہِلُوا حَتَّی نَدْخُلَ لَيْلًا،لِكَيْ تَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ،وَتَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ. قَالَ أَبو دَاود: قَالَ الزُّہْرِيُّ: الطُّرُوقُ بَعْدَ الْعِشَاءِ. قَالَ أَبو دَاود: وَبَعْدَ الْمَغْرِبِ لَا بَأْسَ بِہِ.

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے۔جب (ہم مدینے کے قریب آخری پڑاؤ پر تھے) ہم نے چاہا کہ گھروں کو جائیں ‘ تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’ذرا ٹھہرو،رات ہو لے تو جائیں تاکہ پراگندہ حال خاتون کنگھی چوٹی کر لے اور جس کا شوہر غائب تھا وہ اپنے (زیر ناف) بالوں کی صفائی کر لے۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام زہری رحمہ اللہ نے کہا: ((الطروق)) عشاء کے بعد آنے کو کہتے ہیں۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: مغرب کے بعد آنے میں کوئی حرج نہیں۔