Sunan Abi Dawood Hadith 2780 (سنن أبي داود)

[2780]صحیح

صحیح مسلم (1894)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ،حَدَّثَنَا حَمَّادٌ،أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ،عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ،أَنَّ فَتًی مِنْ أَسْلَمَ قَالَ: يَا رَسُولَ اللہِ! إِنِّي أُرِيدُ الْجِہَادَ،وَلَيْسَ لِي مَالٌ أَتَجَہَّزُ بِہِ؟ قَالَ: اذْہَبْ إِلَی فُلَانٍ الْأَنْصَارِيِّ, فَإِنَّہُ كَانَ قَدْ تَجَہَّزَ فَمَرِضَ،فَقُلْ لَہُ: إِنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ يُقْرِئُكَ السَّلَامَ،وَقُلْ لَہُ: ادْفَعْ إِلَيَّ مَا تَجَہَّزْتَ بِہِ. فَأَتَاہُ،فَقَالَ لَہُ ذَلِكَ،فَقَالَ لِامْرَأَتِہِ: يَا فُلَانَةُ! ادْفَعِي لَہُ مَا جَہَّزْتِنِي بِہِ،وَلَا تَحْبِسِي مِنْہُ شَيْئًا،فَوَاللہِ-لَا تَحْبِسِينَ مِنْہُ شَيْئًا،فَيُبَارِكَ اللہُ فِيہِ

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ قبیلہ اسلم کا ایک نوجوان رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا اور کہا: اے اﷲ کے رسول! میں جہاد کے لیے جانا چاہتا ہوں مگر تیاری کے لیے میرے پاس کوئی مال نہیں ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’فلاں انصاری کے ہاں چلے جاؤ ‘ اس نے تیاری کر رکھی تھی مگر بیمار ہو گیا ہے۔تو اسے کہو کہ رسول اللہ ﷺ سلام کہتے ہیں اور فرماتے ہیں جو سامان سفر تم نے تیار کر رکھا تھا وہ مجھے دے دو۔‘‘ چنانچہ وہ ان کے پاس گیا اور رسول اللہ ﷺ کا پیغام دیا۔تو اس نے اپنی بیوی سے کہا: اے فلانی! جو سامان تو نے میرے لیے تیار کیا تھا وہ اس شخص کے حوالے کر دے اور اس میں سے کچھ بھی نہ رکھنا ‘ اﷲ کی قسم! اگر تو نے اس میں سے کوئی چیز رکھ لی تو اﷲ اس میں برکت نہیں دے گا۔