Sunan Abi Dawood Hadith 2792 (سنن أبي داود)
[2792]صحیح
صحیح مسلم (1967)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ،حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ وَہْبٍ،أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ،حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ عَنِ ابْنِ قُسَيْطٍ،عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ،عَنْ عَائِشَةَ،أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ أَمَرَ بِكَبْشٍ أَقْرَنَ يَطَأُ فِي سَوَادٍ،وَيَنْظُرُ فِي سَوَادٍ،وَيَبْرُكُ فِي سَوَادٍ،فَأُتِيَ بِہِ،فَضَحَّی بِہِ،فَقَالَ: يَا عَائِشَةُ! ہَلُمِّي الْمُدْيَةَ،ثُمَّ قَالَ: اشْحَذِيہَا بِحَجَرٍ،فَفَعَلَتْ،فَأَخَذَہَا وَأَخَذَ الْكَبْشَ،فَأَضْجَعَہُ وَذَبَحَہُ،وَقَالَ: بِسْمِ اللہِ،اللہُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ،وَمِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ, ثُمَّ ضَحَّی بِہِ ﷺ
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا ‘ ایک مینڈھا لایا جائے جو سینگوں والا ہو ‘ پاؤں کالے ہوں ‘ آنکھیں کالی ہوں ‘ سینہ اور پیٹ بھی کالا ہو ‘ چنانچہ وہ پیش کیا گیا تو آپ ﷺ نے اسے قربان کیا۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’عائشہ! چھری لاؤ۔‘‘ پھر فرمایا ’’اسے پتھر پر تیز کرو۔‘‘ میں نے ایسے ہی کیا،پھر آپ ﷺ نے چھری لی اور مینڈھے کو پکڑا ‘ اسے لٹایا اور ذبح کیا اور دعا کی ((للہم تقبل من محمد وآل محمد ومن أمۃ محمد)) ’’اے اﷲ محمد ‘ آل محمد اور امت محمد کی طرف سے قبول فرما۔‘‘ پھر اسے قربان (ذبح) کر دیا۔