Sunan Abi Dawood Hadith 2795 (سنن أبي داود)

[2795] إسنادہ ضعیف

محمد بن إسحاق لم یصرح في ھذہ الروایۃ و صرح في روایۃ أخری و لیس فیھا: ’’موجئین‘‘۔

وحدیث ابن خزیمۃ (2899 وسندہ حسن) یغني عنہ،فیہ ابو عیاش المصری: وثقہ ابن خزیمہ والحاکم ووافقہ الذہبی فھو صدوق۔

وانظر سنن ابن ماجہ بتحقیقي (الأصل: 3121)

انوار الصحیفہ ص 101

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا إِبْرَاہِيمُ بْنُ مُوسَی الرَّازِيُّ،حَدَّثَنَا عِيسَی،حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ،عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ،عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ،عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ،قَالَ: ذَبَحَ النَّبِيُّ ﷺ-يَوْمَ الذَّبْحِ-كَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ مُوجَأَيْنِ،فَلَمَّا وَجَّہَہُمَا قَالَ: إِنِّي وَجَّہْتُ وَجْہِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ،عَلَی مِلَّةِ إِبْرَاہِيمَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ،إِنَّ صَلَاتِي،وَنُسُكِي،وَمَحْيَايَ،وَمَمَاتِي لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِينَ،لَا شَرِيكَ لَہُ،وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ،وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ،اللہُمَّ مِنْكَ وَلَكَ،وَعَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّتِہِ بِاسْمِ اللہِ،وَاللہُ أَكْبَرُ. ثُمَّ ذَبَحَ

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے قربانی کے دن دو مینڈھے ذبح کیے جو سینگوں والے ‘ چتکبرے اور خصی تھے۔جب آپ نے انہیں قبلہ رخ کیا تو یہ دعا پڑھی ((إنی وجہت وجہی للذی فطر السموات والأرض علی ملۃ إبراہیم حنیفا وما أنا من المشرکین،إن صلاتی ونسکی ومحیای ومماتی للہ رب العالمین لا شریک لہ،وبذلک أمرت وأنا من المسلمین،اللہم منک ولک وعن محمد وأمتہ باسم اللہ واللہ أکبر)) ’’میں نے اپنا رخ اس ذات کی طرف کر لیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے ‘ میں ملت ابراہیم پر ہوں اور یک سو ہوں ‘ اور مشرکوں میں سے نہیں ہوں ‘ بلاشبہ میری نماز ‘ میری قربانی ‘ میرا جینا اور میرا مرنا اﷲ ہی کے لیے ہے جو تمام جہان والوں کا پالنے والا ہے ‘ اس کا کوئی شریک نہیں ‘ مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے اور میں اطاعت گزاروں میں سے ہوں ‘ اے اﷲ! یہ (قربانی) تیری طرف سے ہے اور تیرے ہی لیے ہے ‘ اسے محمد اور اس کی امت کی طرف سے قبول فرما ‘ اﷲ کے نام سے اور اﷲ سب سے بڑا ہے۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے اسے ذبح کر دیا۔