Sunan Abi Dawood Hadith 2798 (سنن أبي داود)
[2798]إسنادہ حسن
أبو جعفر محمد بن صدران البصري: قال أبو حاتم الرازي: صدوق، وقال النسائي: لا بأس بہ، وصححہ غیر واحد
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صُدْرَانَ،حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی،حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ،حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ عَبْدِ اللہِ ابْنِ طُعْمَةَ،عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ،عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُہَنِيِّ،قَالَ: قَسَمَ رَسُولُ اللہِ ﷺ فِي أَصْحَابِہِ ضَحَايَا،فَأَعْطَانِي عَتُودًا جَذَعًا،قَالَ: فَرَجَعْتُ بِہِ إِلَيْہِ،فَقُلْتُ لَہُ: إِنَّہُ جَذَعٌ؟! قَالَ: ضَحِّ بِہِ. فَضَحَّيْتُ بِہِ.
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ میں قربانیاں تقسیم فرمائیں تو مجھے بکری کا ایک بچہ عنایت فرمایا جو جذع تھا۔میں اسے لے کر آپ ﷺ کی خدمت میں آیا اور عرض کیا: یہ تو جذع ہے ‘ آپ ﷺ نے فرمایا ’’اسے ہی قربان کر دو۔‘‘ چنانچہ میں نے اس کی قربانی کر دی۔