Sunan Abi Dawood Hadith 2800 (سنن أبي داود)

[2800]صحیح

صحیح بخاری (983) صحیح مسلم (1961)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ،حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ،حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنِ الْبَرَاءِ،قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللہِ ﷺ يَوْمَ النَّحْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ،فَقَالَ: مَنْ صَلَّی صَلَاتَنَا،وَنَسَكَ نُسُكَنَا،فَقَدْ أَصَابَ النُّسُكَ،وَمَنْ نَسَكَ قَبْلَ الصَّلَاةِ, فَتِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ،فَقَامَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ،فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللہِ! وَاللہِ لَقَدْ نَسَكْتُ قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ إِلَی الصَّلَاةِ،وَعَرَفْتُ أَنَّ الْيَوْمَ يَوْمُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ،فَتَعَجَّلْتُ،فَأَكَلْتُ وَأَطْعَمْتُ أَہْلِي وَجِيرَانِي؟ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: تِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ،فَقَالَ: إِنَّ عِنْدِي عَنَاقًا جَذَعَةً،وَہِيَ خَيْرٌ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ،فَہَلْ تُجْزِئُ عَنِّي؟ قَالَ: نَعَمْ, وَلَنْ تُجْزِئَ،عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ

سیدنا براء (بن عازب) رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قربانی کے روز نماز کے بعد خطبہ دیا اور فرمایا ’’جس نے ہماری طرح نماز پڑھی اور ہماری طرح قربانی کی اس کی قربانی صحیح ہوئی اور جس نے نماز سے پہلے قربانی کی تو وہ گوشت کی بکری ہے۔‘‘ ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور بولے: اے اﷲ کے رسول! اﷲ کی قسم! میں نے نماز کے لیے آنے سے پہلے ہی قربانی کر دی ‘ میں نے سمجھا کہ آج کا دن کھانے پینے کا دن ہے تو میں نے جلدی کی ‘ خود بھی کھایا اور اپنے گھر والوں اور ہمسایوں کو بھی کھلایا۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’یہ تو گوشت کی بکری ہوئی۔‘‘ پھر اس نے کہا: میرے پاس بکری کا بچہ ہے جو جذع ہے اور یہ گوشت کی دو بکریوں سے بھی بڑھ کر ہے تو کیا یہ میری طرف سے کافی ہو گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’ہاں ‘ لیکن تیرے بعد کسی کے لیے ہرگز کافی نہیں ہو گی۔‘‘