Sunan Abi Dawood Hadith 2803 (سنن أبي داود)

[2803] إسنادہ ضعیف

أبو حمید الرعیني مجہول (تقریب: 8064)

انوار الصحیفہ ص 101

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا إِبْرَاہِيمُ بْنُ مُوسَی الرَّازِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنَا ح،وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرِ بْنِ بَرِيٍّ،حَدَّثَنَا عِيسَی الْمَعْنَی،عَنْ ثَوْرٍ،حَدَّثَنِي أَبُو حُمَيْدٍ الرُّعَيْنِيُّ،أَخْبَرَنِي يَزِيدُ ذُو مِصْرَ،قَالَ: أَتَيْتُ عُتْبَةَ بْنَ عَبْدٍ السُّلَمِيَّ،فَقُلْتُ: يَا أَبَا الْوَلِيدِ! إِنِّي خَرَجْتُ أَلْتَمِسُ الضَّحَايَا،فَلَمْ أَجِدْ شَيْئًا يُعْجِبُنِي, غَيْرَ ثَرْمَاءَ فَكَرِہْتُہَا،فَمَا تَقُولُ؟ قَالَ: أَفَلَا جِئْتَنِي بِہَا! قُلْتُ: سُبْحَانَ اللہِ! تَجُوزُ عَنْكَ وَلَا تَجُوزُ عَنِّي؟! قَالَ: نَعَمْ،إِنَّكَ تَشُكُّ! وَلَا أَشُكُّ! إِنَّمَا: نَہَی رَسُولُ اللہِ ﷺ عَنِ الْمُصْفَرَّةِ،وَالْمُسْتَأْصَلَةِ،وَالْبَخْقَاءِ،وَالْمُشَيَّعَةِ وَكِسَرَا وَالْمُصْفَرَّةُ الَّتِي تُسْتَأْصَلُ أُذُنُہَا،حَتَّی يَبْدُوَ سِمَاخُہَا،وَالْمُسْتَأْصَلَةُ الَّتِي اسْتُؤْصِلَ قَرْنُہَا مِنْ أَصْلِہِ،وَالْبَخْقَاءُ: الَّتِي تُبْخَقُ عَيْنُہَا،وَالْمُشَيَّعَةُ: الَّتِي لَا تَتْبَعُ الْغَنَمَ, عَجَفًا وَضَعْفًا،وَالْكَسْرَاءُ: الْكَسِيرَةُ.

یزید ذومصر بیان کرتے ہیں کہ میں عتبہ بن عبد سلمی کے پاس آیا اور (اس سے) کہا: اے ابوالولید! میں قربانی لینے کے لیے نکلا ہوں مگر کوئی جانور پسند نہیں آیا سوائے ایک کے کہ اس کے دانت گر گئے ہیں۔مگر وہ بھی مجھے پسند نہیں ہے تو آپ اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: وہ تم نے مجھے کیوں نہیں لا دیا۔میں نے کہا: سبحان اللہ! تمہاری طرف سے جائز ہو گا تو کیا میرے طرف سے جائز نہ ہو گا؟ انہوں نے کہا: ہاں (اس لیے کہ) تم شک کرتے ہو اور مجھے کوئی شک نہیں ہے۔رسول اللہ ﷺ نے ان جانوروں سے منع کیا ہے جو ((مصفرۃ،مستأصلۃ،بخقاء،مشیعۃ)) یا ((کسراء)) ہوں۔((مصفرۃ)) وہ ہے جس کا کان جڑ سے کٹ گیا ہو کہ اس کا سوراخ نظر آنے لگے۔((مستأصلۃ)) وہ ہے جس کا سینگ جڑ سے نکل گیا ہو ‘ ((بخقاء)) وہ ہے جس کی بینائی جاتی رہے مگر آنکھ قائم ہو ‘((مشیعۃ)) وہ ہے جو ناتوانی و کمزوری کی وجہ سے دوسری بکریوں کے ساتھ نہ چل سکے اور ((کسراء)) وہ ہے جس کی ٹانگ ٹوٹ گئی ہو۔