Sunan Abi Dawood Hadith 2810 (سنن أبي داود)
[2810] إسنادہ ضعیف
ترمذی (1521)
المطلب بن عبداللہ بن حنطب مدلس وصرح بالسماع عند الطحاوی(معانی الآثار 177/4178) في أصل الحدیث ولکنہ لم یصرح بالسماع في قولہ:’’نزل من منبرہ‘‘ فھذا ضعیف
ولأصل الحدیث شواھد عند الحاکم (229/4) وغیرہ دون قولہ:’’نزل من منبرہ‘‘
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ،حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي الْإِسْكَنْدَرَانِيَّ،عَنْ عَمْرٍو عَنِ الْمُطَّلِبِ،عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ،قَالَ: شَہِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللہِ ﷺ الْأَضْحَی بِالْمُصَلَّی،فَلَمَّا قَضَی خُطْبَتَہُ نَزَلَ مِنْ مِنْبَرِہِ،وَأُتِيَ بِكَبْشٍ،فَذَبَحَہُ رَسُولُ اللہِ ﷺ بِيَدِہِ،وَقَالَ: بِسْمِ اللہِ،وَاللہُ أَكْبَرُ،ہَذَا عَنِّي وَعَمَّنْ لَمْ يُضَحِّ مِنْ أُمَّتِي
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں ایک عید الاضحی کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عید گاہ میں حاضر تھا۔جب آپ ﷺ نے اپنا خطبہ مکمل کر لیا اور منبر سے اترے تو آپ ﷺ کو ایک مینڈھا پیش کیا گیا۔آپ ﷺ نے اسے اپنے ہاتھ سے ذبح کیا اور یہ دعا پڑھی ((بسم اللہ واللہ أکبر ہذا عنی وعمن لم یضح من أمتی))’’اللہ کے نام سے ‘ اور اللہ سب سے بڑا ہے ‘ یہ میری طرف سے اور میری امت کے ان لوگوں کی طرف سے ہے جو قربانی نہیں کر سکے۔‘‘