Sunan Abi Dawood Hadith 2812 (سنن أبي داود)
[2812]صحیح
صحیح مسلم (1971)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ،عَنْ مَالِكٍ،عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ،عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ, قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ،تَقُولُ: دَفَّ نَاسٌ مِنْ أَہْلِ الْبَادِيَةِ حَضْرَةَ الْأَضْحَی فِي زَمَانِ رَسُولِ اللہِ ﷺ،فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ،ادَّخِرُوا الثُّلُثَ،وَتَصَدَّقُوا بِمَا بَقِيَ قَالَتْ: فَلَمَّا كَانَ بَعْدُ ذَلِكَ،قِيلَ لِرَسُولِ اللہِ ﷺ: يَا رَسُولَ اللہِ! لَقَدْ كَانَ النَّاسُ يَنْتَفِعُونَ مِنْ ضَحَايَاہُمْ،وَيَجْمُلُونَ مِنْہَا الْوَدَكَ،وَيَتَّخِذُونَ مِنْہَا الْأَسْقِيَةَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: وَمَا ذَاكَ-أَوْ كَمَا قَالَ-،قَالُوا: يَا رَسُولَ اللہِ! نَہَيْتَ عَنْ إِمْسَاكِ لُحُومِ الضَّحَايَا بَعْدَ ثَلَاثٍ،فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: إِنَّمَا نَہَيْتُكُمْ مِنْ أَجْلِ الدَّافَّةِ الَّتِي دَفَّتْ عَلَيْكُمْ،فَكُلُوا،وَتَصَدَّقُوا،وَادَّخِرُوا
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں (ایک بار) عید الاضحی کے موقع پر دیہاتوں کے لوگ بہت زیادہ آ گئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’اپنی قربانیوں میں سے تین رات کے لیے رکھ لو اور باقی صدقہ کر دو۔’’بیان کرتی ہیں کہ پھر اس کے بعد کا موقع آیا تو رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! لوگ (پہلے) اپنی قربانیوں سے فائدہ اٹھاتے تھے ‘ ان کی چربی جمع کر لیتے تھے اور ان (کی کھالوں) سے مشکیزے بنا لیتے تھے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’تو (اب) کیا ہوا؟‘‘ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے قربانی کا گوشت تین رات سے زیادہ رکھنے سے منع فرما دیا ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’میں نے تمہیں اس وجہ سے روکا تھا کہ تمہارے پاس دیہاتی لوگ بہت زیادہ آ گئے تھے۔سو تم کھاؤ ‘ صدقہ کرو اور رکھ بھی لو۔‘‘