Sunan Abi Dawood Hadith 2821 (سنن أبي داود)

[2821]صحیح

صحیح بخاری (5498) صحیح مسلم (1968)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ،حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ،حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْرُوقٍ،عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ،عَنْ أَبِيہِ،عَنْ جَدِّہِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ،قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ،فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللہِ! إِنَّا نَلْقَی الْعَدُوَّ،غَدًا وَلَيْسَ مَعَنَا مُدًی،أَفَنَذْبَحُ بِالْمَرْوَةِ وَشِقَّةِ الْعَصَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: أَرِنْ-أَوْ أَعْجِلْ-مَا أَنْہَرَ الدَّمَ،وَذُكِرَ اسْمُ اللہِ عَلَيْہِ, فَكُلُوا،مَا لَمْ يَكُنْ سِنًّا،أَوْ ظُفْرًا،وَسَأُحَدِّثُكُمْ عَنْ ذَلِكَ, أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ،وَأَمَّا الظُّفْرُ فَمُدَی الْحَبَشَةِ. وَتَقَدَّمَ بِہِ سَرْعَانٌ مِنَ النَّاسِ،فَتَعَجَّلُوا،فَأَصَابُوا مِنَ الْغَنَائِمِ،وَرَسُولُ اللہِ ﷺ فِي آخِرِ النَّاسِ،فَنَصَبُوا قُدُورًا،فَمَرَّ رَسُولُ اللہِ ﷺ بِالْقُدُورِ،فَأَمَرَ بِہَا،فَأُكْفِئَتْ،وَقَسَمَ بَيْنَہُمْ،فَعَدَلَ بَعِيرًا بِعَشْرِ شِيَاہٍ،وَنَدَّ بَعِيرٌ مِنْ إِبِلِ الْقَوْمِ،وَلَمْ يَكُنْ مَعَہُمْ خَيْلٌ،فَرَمَاہُ رَجُلٌ بِسَہْمٍ،فَحَبَسَہُ اللہُ،فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: إِنَّ لِہَذِہِ الْبَہَائِمِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ،فَمَا فَعَلَ مِنْہَا ہَذَا فَافْعَلُوا بِہِ مِثْلَ ہَذَا

سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کل ہم دشمن سے ملیں گے لیکن ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں ‘ تو کیا ہم پتھر سے یا لاٹھی کے تیز پھٹے سے ذبح کر سکتے ہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’پھرتی دکھا ‘ یا جلدی کر ‘ جو چیز بھی خون بہا دے اور اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو تو اسے کھاؤ ‘ لیکن دانت یا ناخن نہ ہو ‘ میں تمہیں اس کے متعلق بتاتا ہوں کہ دانت ہڈی ہے اور ناخن حبشی لوگوں کی چھری ہے۔‘‘ اور کچھ جلد باز لوگ آگے بڑھے اور انہوں نے جلدی کی ‘ انہیں کچھ غنیمتیں مل گئی تھیں جبکہ رسول اللہ ﷺ لوگوں کے پیچھے تھے ‘ انہوں نے دیگچے آگ پر رکھ دئیے ‘ رسول اللہ ﷺ ان دیگچوں کے پاس سے گزرے تو آپ ﷺ نے حکم دیا اور انہیں الٹ دیا گیا اور ان میں (غنیمتیں) تقسیم کیں ‘ تو ایک اونٹ کو دس بکریوں کے برابر کیا۔اور جماعت کے اونٹوں میں سے ایک اونٹ بھاگ کھڑا ہوا ‘ ان کے پاس گھوڑے نہیں تھے ‘ تو ایک آدمی نے اس کو تیر مارا اور اللہ نے اس کو روک لیا۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’ان جانوروں میں بھی بدک کر بھاگنے والے ہوتے ہیں جیسے کہ دیگر وحشی (جنگلی جانور) ‘ تو جوان میں سے اس طرح سے کرے ‘ اس کے ساتھ اسی طرح کرو۔‘‘