Sunan Abi Dawood Hadith 2826 (سنن أبي داود)

[2826] إسنادہ ضعیف

عمرو بن عبد اللہ بن الأسوار الیماني ضعیف ضعفہ الجمہور والجرح مقدم

و انظرالتحریر (5060)

انوار الصحیفہ ص 102

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا ہَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ وَالْحَسَنُ بْنُ عِيسَی مَوْلَی ابْنِ الْمُبَارَكِ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ،عَنْ مَعْمَرٍ،عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللہِ،عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ زَادَ ابْنُ عِيسَی وَأَبِي ہُرَيْرَةَ،قَالَا: نَہَی رَسُولُ اللہِ ﷺ عَنْ شَرِيطَةِ الشَّيْطَانِ. زَادَ ابْنُ عِيسَی فِي حَدِيثِہِ: وَہِيَ الَّتِي تُذْبَحُ فَيُقْطَعُ الْجِلْدُ،وَلَا تُفْرَی الْأَوْدَاجُ،ثُمَّ تُتْرَكُ حَتَّی تَمُوتَ.

سیدنا ابن عباس اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے شیطان کے ذبیحہ سے منع فرمایا ہے۔امام ابن عیسیٰ نے اپنی حدیث میں یہ اضافہ نقل کیا ہے (شیطان کے ذبیحہ سے مراد یہ ہے کہ) ذبیحہ کی کھال کاٹ دی جائے مگر رگیں نہ کاٹی جائیں اور پھر اسے یونہی چھوڑ دیا جائے حتیٰ کہ مر جائے۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: عمرو بن عبداللہ کو عمرو برق کہا جاتا ہے،عکرمہ اس کے والد کے ہاں یمن میں مہمان ٹھہرے تھے۔اور معمر جب اس سے روایت کرتے ہیں تو وہ عمرو بن عبداللہ کہتے ہیں اور جب اہل یمن روایت کرتے ہیں تو اس کا نام ذکر نہیں کرتے۔