Sunan Abi Dawood Hadith 2837 (سنن أبي داود)
[2837] إسنادہ ضعیف
قتادۃ: عنعن والحدیث الآتي(الأصل:2838) یغني عنہ
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ،حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ،حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنِ الْحَسَنِ،عَنْ سَمُرَةَ،عَنْ رَسُولِ اللہِ ﷺ،قَالَ: كُلُّ غُلَامٍ رَہِينَةٌ بِعَقِيقَتِہِ،تُذْبَحُ عَنْہُ يَوْمَ السَّابِعِ،وَيُحْلَقُ رَأْسُہُ،وَيُدَمَّی.فَكَانَ قَتَادَةُ إِذَا سُئِلَ عَنِ الدَّمِ،كَيْفَ يُصْنَعُ بِہِ؟ قَالَ: إِذَا ذَبَحْتَ الْعَقِيقَةَ أَخَذْتَ مِنْہَا صُوفَةً،وَاسْتَقْبَلْتَ بِہِ أَوْدَاجَہَا،ثُمَّ تُوضَعُ عَلَی يَافُوخِ الصَّبِيِّ،حَتَّی يَسِيلَ عَلَی رَأْسِہِ مِثْلَ الْخَيْطِ،ثُمَّ يُغْسَلُ رَأْسُہُ بَعْدُ وَيُحْلَقُ.قَالَ أَبو دَاود: وَہَذَا وَہْمٌ مِنْ ہَمَّامٍ: وَيُدَمَّی.قَالَ أَبو دَاود: خُولِفَ ہَمَّامٌ فِي ہَذَا الْكَلَامِ وَہُوَ وَہْمٌ مِنْ ہَمَّامٍ وَإِنَّمَا قَالُوا يُسَمَّی فَقَالَ ہَمَّامٌ يُدَمَّی.قَالَ أَبو دَاود: وَلَيْسَ يُؤْخَذُ بِہَذَا.
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’ہر بچہ اپنے عقیقے کے ساتھ گروی ہوتا ہے۔(لہٰذا) ساتویں دن اس کی طرف سے جانور ذبح کیا جائے،سر منڈایا جائے اور اس پر خون لگایا جائے۔‘‘ قتادہ رحمہ اللہ سے جب یہ پوچھا جاتا کہ خون کس طرح لگایا جائے تو کہتے: جب جانور ذبح کیا جا رہا ہو تو اس کے چند بال لے کر اس کی (کٹنے والی) رگوں کے آگے کر دو اور بچے کی چندیا پر رکھ دیے جائیں حتیٰ کہ وہ (تازہ تازہ خون) اس کے سر پر دھاگے کی مانند بہنے لگے۔پھر اس کا سر دھویا جائے اور بال مونڈ دیے جائیں۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ((ویدمی)) خون لگانے والی بات ہمام کا وہم ہے۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس جملے میں ہمام کی مخالفت کی گئی ہے۔دیگر لوگ ((ویسمی)) روایت کرتے ہیں (بچے کا نام رکھا جائے) مگر ہمام نے اس لفظ کو ((یدمی)) کہہ دیا۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ قابل عمل بھی نہیں ہے۔