Sunan Abi Dawood Hadith 2847 (سنن أبي داود)
[2847]صحیح
صحیح بخاری (5477) صحیح مسلم (1929)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَی حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاہِيمَ عَنْ ہَمَّامٍ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ ﷺ قُلْتُ إِنِّي أُرْسِلُ الْكِلَابَ الْمُعَلَّمَةَ فَتُمْسِكُ عَلَيَّ أَفَآكُلُ قَالَ إِذَا أَرْسَلْتَ الْكِلَابَ الْمُعَلَّمَةَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللہِ فَكُلْ مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكَ قُلْتُ وَإِنْ قَتَلْنَ قَالَ وَإِنْ قَتَلْنَ مَا لَمْ يَشْرَكْہَا كَلْبٌ لَيْسَ مِنْہَا قُلْتُ أَرْمِي بِالْمِعْرَاضِ فَأُصِيبُ أَفَآكُلُ قَالَ إِذَا رَمَيْتَ بِالْمِعْرَاضِ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللہِ فَأَصَابَ فَخَرَقَ فَكُلْ وَإِنْ أَصَابَ بِعَرْضِہِ فَلَا تَأْكُلْ
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سوال کیا کہ میں اپنے سدھائے ہوئے کتے چھوڑتا ہوں تو وہ میرے لیے شکار پکڑ رکھتے ہیں،تو کیا میں (اسے) کھا لوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’جب تم سدھائے ہوئے کتے چھوڑو اور اللہ کا نام لو،تو جو وہ تمہارے لیے پکڑ رکھیں اسے کھا لو۔‘‘ میں نے کہا: اگرچہ وہ اسے مار ہی ڈالیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’خواہ مار ہی ڈالیں،بشرطیکہ کوئی اور کتا ان میں شامل نہ ہو گیا ہو جو ان میں سے نہ ہو۔‘‘ میں نے کہا: میں بھالا پھینکتا ہوں اور اس سے شکار کرتا ہوں،تو کیا (اسے) کھا لیا کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’جب تم بھالا پھینکو اور ((بسم اللہ)) کہو اور وہ شکار کو لگے اور اس کو پھاڑ دے تو کھا سکتے ہو،لیکن اگر وہ چوڑائی کی طرف سے لگے (بغیر دھار کے محض چوٹ سے اس کو مار ڈالے) تو مت کھاؤ۔‘‘