Sunan Abi Dawood Hadith 2884 (سنن أبي داود)
[2884]صحیح
صحیح بخاری (2396)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ أَنَّ شُعَيْبَ بْنَ إِسْحَقَ حَدَّثَہُمْ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ وَہْبِ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ أَنَّہُ أَخْبَرَہُ أَنَّ أَبَاہُ تُوُفِّيَ وَتَرَكَ عَلَيْہِ ثَلَاثِينَ وَسْقًا لِرَجُلٍ مِنْ يَہُودَ فَاسْتَنْظَرَہُ جَابِرٌ فَأَبَی فَكَلَّمَ جَابِرٌ النَّبِيَّ ﷺ أَنْ يَشْفَعَ لَہُ إِلَيْہِ فَجَاءَ رَسُولُ اللہِ ﷺ وَكَلَّمَ الْيَہُودِيَّ لِيَأْخُذَ ثَمَرَ نَخْلِہِ بِالَّذِي لَہُ عَلَيْہِ فَأَبَی عَلَيْہِ وَكَلَّمَہُ رَسُولُ اللہِ ﷺ أَنْ يُنْظِرَہُ فَأَبَی وَسَاقَ الْحَدِيثَ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ اس کے والد (سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ) فوت ہو گئے اور ان کے ذمے ایک یہودی کا تیس وسق قرض تھا۔سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے اس سے مہلت طلب کی مگر اس نے انکار کر دیا۔سیدنا جابر رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تاکہ یہودی کے ہاں اس کی سفارش فرما دیں،پس رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور یہودی سے بات کی کہ اس قرض کے بدلے کھجور کا پھل لے لو مگر وہ نہ مانا،رسول اللہ ﷺ نے اس سے کہا کہ مہلت دے دو تو بھی اس نے انکار کیا اور حدیث بیان کی۔